تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 94 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 94

۹۳ کیا کہ ان کی تعلیم کا حرج ہو رہا ہے تو میں نے کہا اچھا انہیں یہاں بھیج دو چنا نچہ ان کا ایک لڑکالا ہو پڑھتا ہے اور مسلسلہ کی طرف سے اسے امداد دی جاتی ہے لیکن قادیان سے نکلنے کے بعد مجھے خیال آیا کہ انہوں نے نیا ماحول تو دیکھا نہیں اس لئے انہیں واپس بلا لیا جائے اور اس نئے ماحول سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے لیکن نے انہیں واپس آنے کی اجازت دی۔لیکن جب اس حکم پر عمل کرنے کا وقت آیا تو خدا تعالیٰ نے انہیں واپس بلا لیا تا وہ اپنے عہد کو پورا کرنے والے نہیں اور منهم مَنْ قضى نَحْبَہ کی جماعت میں شامل ہو جائیں۔اس آیت قرآنیہ میں خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ کچھ تو ایسے صحابہ ہیں جنہوں نے موت تک اپنے عہد کو نباہا ہے۔و مِنْهُمْ مَنْ يَنْتظر اور کچھ ایسے ہیں کہ وہ اس انتظار میں ہیں کہ انہیں موقع ملے تو وہ اپنے عہد کو پورا کریں : اسی تسلسل میں فرمایا :- " ہماری جماعت میں بھی خدا تعالیٰ نے ایسے لوگ پیدا کئے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ حافظ جمال احمد صاحب بھی انہی میں سے تھے جن کے متعلق بعد اتعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ مِنْهُمْ مَنْ قَضى نخبة۔وہ یہاں سے عمد کر کے گئے تھے کہ وہ وہیں کے ہو رہیں گے جب ہم نے چاہا کہ وہ آجائیں تو خدا تعالیٰ نے کہا نہیں میں ان کا عہد پورا کروں گا۔ماریشیس ایک ایسا ملک ہے جہاں بہت ابتداء سے ہمارے مشن سجارہے ہیں میری خلافت کے دوسرے یا تیسرے سال سے وبائی مشن بجھارہے ہیں۔ایسے پرانے ملک کا بھی یہ حق تھا کہ وہ کسی صحابی یا تابعی کی قبرا اپنے اندر رکھتا ہو۔ہم شرک نہیں کرتے ہم قبروں پر سے مٹیاں لینے والے نہیں ہم قبروں پر پھول چڑھانے والے نہیں ہمیں تو یہ بھی شنکر تعجب آتا ہے کہ ابن سعود کے نمائندے بھی قبروں پر پھول چڑھانے لگ گئے ہیں۔مجھے حیرت آتی ہے کہ اگر کوئی پھول چڑھانے کی مستحق قبر تھی تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر تھی۔کیا حضرت ابو بکرین کو کھول نہ ملے کہ وہ آپ کی قبر مبارک پر پھول چڑھاتے۔کیا حضرت عمر کو پھول نہ ملے کہ وہ آپ کے مزار پر پھول چڑھاتے۔اگر آپ کے مزار پر ان بزرگوں نے پھول چڑھائے ہوتے تو ہم اپنے خوان سے پھولوں کے پودوں کو بیچتے تا آپ کے مزار پر پھول چڑھائیں مگر افسوس زمانے بدل گئے لے نقل مطابق اصل :