تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 88 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 88

پتھر مار رہے ہیں حضرت مولوی صاحب نے ایک درد بھرے دل سے کہا وہ گیا جس کو مارتے تھے مجھ کو کون مارتا ہے یہ ہر کسی کو نصیب نہیں " ملک صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انتقال کی المناک اطلاع کیسے ملی ؟ اس واقعہ پر آپ درج ذیل الفاظ میں روشنی ڈالتے ہیں :- " حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کی خبر میرے ایک چھا صاحب نے مجھے اُس وقت دی جب میں عدالت مطالبہ خفیفہ امرتسر میں ایک عرضی دعوئی کا انگریزی ترجمہ کر رہا تھا۔اس وقت گو چند لمحوں کے لئے ہی ایسا ہوا مگر میری نظر بالکل جاتی رہی اور سامنے پڑے ہوئے کاغذ کے حروف نظرنہ آتے تھے۔دوسرے روز ہم ہمہ ڈاکٹر عیا واللہ صاحب اور دوسرے دوستوں کے صبح کی گاڑی سے بٹالہ اور وہاں سے لیکر پر قادیان گئے۔وہاں حضور کے چہرہ کو جو اس وقت بھی نورانی تھا دیکھا۔انتخاب خلافت را ولی ہوا اور پہلے جن لوگوں نے بیعت کی ان میں میں نے بھی خلافت اولیٰ کی بیعت کا شرف حاصل کیا ہے ۱۹۳۴ء میں آپ سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔تو حضرت خلیفہ ایسی الثانی کے حکم پر نائب ناظر بیت المال مقرر کئے گئے۔ازاں بعد حضور نے آپ کو اراضیات سندھ کی نگرانی کے لئے بھیجوایا جہاں کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد آپ بیمار ہو گئے طبیعت سنبھل جانے پر قادیان آگئے تو حضرت امیر المومنین نے آپ کو ناظم بھائیداد کی خدمت سپرد فرمائی جس پر آپ آخر عمر تک فائز رہے۔بالفاظ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بہت زندہ دل خوش مزاج بزرگ تھے ، قرآن عظیم کے مطالعہ اور اس پر غور و تدبر کرنے کا بہت شوق تھا۔جب کسی آیت کی لطیف تفسیر ذہن میں آتی اسے نوٹ کر لیتے اور اپنے بچوں کو سناتے تھے۔الفضل" اور ریویو آن پیجز" انگریزی میں آپ کے کئی مضامین چھپے ہوئے ہیں۔ہو میو پیتھی دوائیں ہمیشہ گھر میں رکھتے اور گفت دیا کرتے تھے۔آپ کے اخلاق میں تحمل، ملنساری، جرات، اصابت رائے اور موقع شناسی کے اوصاف بہت نمایاں تھے ماتحتوں سے عمدہ سلوک تھا۔بہت اچھے دوست اور دوستوں کے لئے قربانی کا مادہ رکھتے تھے۔عرصہ تک عدالتوں میں کام کرنے کے باعث مرقو یہ قانون سے خوب واقف تھے۔ڈرافٹ تیار کرنے ے یہ واقعات ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے کی تالیف اصحاب احمد جلد اول طلا تا ہے اسے ماخوذ ہیں۔