تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 87
AY مین پاک علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کر لی۔ملک صاحب موصوف کو سیدنا حضرت سیح موعود کے زمانہ مبارک میں کئی بار قا دیان جانے اور حضور سے روحانی فیض اٹھانے کا موقع ملا۔ماسٹر عبدالحق صاحب قصوری بی۔اسے سابق طالب علم مشن کالج لاہور نے جو عرصہ تین سال سے عیسائی تھے ۲۶ دسمبر شہ کو پانچ سوالات لکھ کر پیش کئے جس کے جواب میں حضور نے مفصل تقریر فرمائی کہ ملک صاحب موصوف کو یہ تقریر سننے کا شرف حاصل ہے۔ماسٹر عبد الحق صاب اس تقریرہ سے متاثر ہو کر اسلام لے آئے کیے ملک صاحب فرماتے ہیں :۔14۔# اہ میں ) صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کے کابل میں سنگسار ہونے کے فوراً بعد ہم قادیان گئے تو مغرب کی مجلس کے بعد اس کا تذکرہ تھا۔غالباً احمد نور صاحب کا بلی آئے تھے اور انہوں نے حالات سُنائے تھے حضور کو سخت صدمہ تھا حضور نے ارادہ ظاہر فرمایا کہ ہم اس کے متعلق ایک کتاب لکھیں گے مجھے چونکہ حضور کے فارسی اشعار سے بہت محبت ہے میں نے عرض کیا حضور کچھ فارسی اشعار بھی ہوں حضور نے جھٹ زما یا نہیں ہمارا مضمون سادہ ہو گا لیکن جب کتاب تذکرۃ الشہادتین شائع ہوئی تو اس میں ایک لمبی پر درد فارسی نظم تھی۔مجھے اس وقت خیال آیا کہ کیسے پاک لوگ ہیں اپنے ارادہ سے نہیں بلکہ صحیح رہائی تحریک کے ماتحت کام کرتے ہیں ورنہ ان کو شعرگوئی سے کوئی نسبت نہیں " حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آخری سفر دہلی سے واپسی پر اور نومبر اللہ کو مین کو لام رائے کنہیا لال صاحب وکیل کے لیکچر ہال امرتسر میں تقریر فرمائی جس کے دوران ایک ہنگامہ عظیم برپا کر دیا گیا۔ملک صاحب اس ہنگامہ کے وقت لیکچر ہال میں موجود تھے چنانچہ وہ اس واقعہ کی تفصیل بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں:۔" جب ہم نے دیکھ لیا کہ حضور جا چکے توہم حضرت مولوی نور الدین صاحب کے ہمراہ۔۔۔باہر بازار میں نکلنے لگے کسی شخص نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور ٹھہر جاویں لوگ الحکم ۱۴ فروری شر سے الحكم، ار جنوری شاه (رودا و بیعت کی