تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 306 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 306

٣٠٠ نہ صدر رصوبہ کا نہ کسی اور کا۔البتہ جن احکام کے نافذ کرنے کا قانون نے کسی عہدیدار کو حق دیا ہے ان کے نفاذ کے بارہ میں کوئی فوجداری نائی نہیں کی جا سکتی خواہ اس فیصلہ سے لوگوں کو اختلاف ہی ہو ایسے امور کی سماعت صرف مجلدن شوری یعنی اسمبلی میں ہو گی۔دوه :- صدر مملکت یا صدر صوبہ کی گرفتاری، قید یا حاضری کا حکم اس کے عہدہ کے دوران کسی عدالت کی طروت سے بھاری کیا جا سکتا ہے۔سوم :- صدر مملکت کو حدود شرعیہ کے معاف کرنے کا حق نہیں مثلاً قتل اور جروح میں قصاص نجی معافی یا دیت کی صورت میں سزا کی تبدیلی کا صرف مقتول کے وارث یا زخم خورہ کی رضا مندی سے صدر کو حق حاصل ہو سکتا ہے ورنہ نہیں اور باقی امور میں مصالح ملکی اور سیاسی کے ماتحت حق دیا جا سکتا ہے۔چهارم :- اسلام میں صدر سلکت کو دستور معطل کرنے کا اختیار کبھی حاصل نہیں البتہ اگر کسی وقت کی وجہ سے وقتی طور پر دستور پرعمل کرنا ناممکن ہو جائے تو اس وقت صدر مملکت کو یہ اختیار ہونا چاہئیے کہ یہ اعلان کرنے کہ چونکہ موجودہ حالات میں دستور پر عمل کرنا نا ممکن ہو گیا ہے اس لئے لیکن حالات کی درستی تک جس کے لئے میعاد معینی نازکور ہونی چاہئیے اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہوں یا فلاں فلا نمائندوں کو یہ اختیار سپرد کرتا ہوں۔پنجم :- اسلام نے عدالتی فیصلہ کے بغیر کسی شخص کو قید میں رکھنا جائز نہیں رکھا۔البتہ خاص حالات میں ہنگامی ضرورت کے وقت اگر کسی کو گرفتار کیا جائے تو اس کا معاملہ قریب سے قریب وقت میں عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہئیے۔البتہ اگر ضرورت سمجھی جائے تو عدالت کو از خود یا حکومت کی درخواست پر مقدمہ کی سماعت بند عدالت میں کرنے کا اختیار ہے۔یہ اسلامی اصول کہ کسی کو عدالتی فیصلہ کے بغیر قید میں نہیں رکھا جا سکتا آئینی حکومت کو قائم رکھنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔کیونکہ جو حکومت یہ سمجھے گی کہ وہ عدالت کے فیصلہ کے بغیر کسی کو قید میں نہیں رکھ سکتی تو وہ لازماً اپنے قانون کو زیادہ مکمل کرنے کی کوشش کرے گی۔ششم: عبوری رپورٹ کے تختہ دوم دفعہ ۱۱-۱۳ میں مذہبی تعلیم و آزادی کے لئے اسلامی فرقوں کے سایہ مسلمہ کا اضافہ کیا گیا تھا جس پر علمائے مسلسلہ نے حسب ذیل رائے دی کہ :۔