تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 81 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 81

صدر انجین احمدیہ قادیان تارکین وطن میں شامل نہیں۔اور اپنے وہ اپنی جائداد پر قبضہ کرنے کا حق رکھتی ہے۔درویشوں کو اس ابتدائی پر آشوب دور میں جن شاندار اسلامی خوانده هم خواتین کی بیابانی خدمات انجام دینے کی توفیق ریبت کریم بیلین کی طرف سے علی ان میں کے لئے عظیم الشان جد و جہد مسلمان مغویہ خواتین کی بازیابی اور تصور مسلمانوں کی حفاظت کا کارنامہ نہایت درجہ لائق تحسین ہے جس کی عظمت و اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں درویشان قادیان کی زندگی عملاً قید سے بہتر نہیں تھی کیونکہ وہ ایک مختصر سے حلقہ میں محدودو محصور تھے اور انہیں اس حلقہ سے تھوڑا بہت ادھر ادھر جانے کے لئے بھی پولیس یا ملٹری کی امداد کی ضرورت ہوتی تھی۔ایک بھاری وقت یہ تھی کہ بھارتی حکومت نے ضلع گورداسپور کو ممنوعہ علاقہ قرار دے رکھا تھا اس لئے پاکستان کی ملڑی یا پولیس بین الملکتی معاہدہ کے باوجود اغواشدہ مسلم خواتین کو برآمد کرنے کے لئے نہیں آسکتی تھی۔لیکن چونکہ قادیان کے مینار سے پانچوں وقت اذان کی آواز بلند ہوتی جو دُور دُور تک سنائی دیتی تھی اس لئے متعدد مسلمان عورتیں اذان سننے کے بعد موقع پاتے ہی مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے اس واحد مرکز میں پہنچ جاتی تھیں۔بعض کو شریعیت عیسائی اور بعض کو شریعت مزاج سکھ چھوڑ جاتے تھے بعض عورتیں ارد گرد کے دیہات پر حملہ کے دوران قادیان آکر ٹھہر گئی تھیں۔یا انہوں نے غیر مسلموں سے قادیان کی اسلامی بستی کا ذکر سنا تو وہ چپکے سے یہاں بھاگ آئیں۔ماہ اضداد اکتوبر سے۔او بھرت اسی میں تک ایسی عورتیں بشمول خون یا جبر کے باعث اسلام سے ارتداد اختیار کرنے والوں کے قریباً انشی کی تعداد میں درویشوں کے حلقہ میں پہنچیں۔ان عورتوں میں ، حول قادیان کے علاوہ ہوشیار پو امرتسر، فیروز پور اور ریاست جموں کی بھی تھیں جن کی رہائش اور خوراک کا خاص اہتمام کیا گیا اور ان کو لڑکوں پر سوار کرا کے بحفاظت پاکستان پہنچا دیا گیا۔منویہ عورتوں کی قادیان میں آمد یا قادیان سے روانگی پر قادیان کے مرکزی کارکنوں کی طرف سے تار اور فون کے ذریعہ سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحب کی خدمت میں با قاعدہ اطلاع دی بھاتی۔اور حضرت میاں صاحب ایسی خواتین کو ان کے ورثاء تک پہنچانے کے لئے اخبارات میں اطلاع شائع کراتے نے بطور استان آپ کا ایک اعلان ملاحظہ ہو: علاقہ قادریان کی اغوا شدہ عورتیں لاہور انگارہی ہیں ان کے در تار و جو پہنچکر یٹری کیمپ میں تیہ میں دیبقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر )