تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 80
۷۵ دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ مالک نے مجھے حکم دیا ہے کہ جب تک اسے تحریک یا جبرا نہیں روکا جاتا اسے باغ کے اندر ہی رہنا چاہیے۔چونکہ اس بارہ میں کوئی تحریر دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اس لیئے باہمی کشمکش تک نوبت جا پہنچی اور تحصیلدار صاحب اور نائب تحصیلدار نے باغ دیکھنے کے بعد رپورٹ کر دی کہ یہ باغ اور بہشتی مقبرہ دو بعدا عدا چیزیں ہیں اور ان کے مالکانہ حقوق بھی الگ الگ لوگوں کو حاصل ہیں۔مقامی حکام نے اس رپورٹ کی توثیق و تصدیق کے لئے پٹواریوں سے نقشہ جات بنوائے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ واقعی بہشتی مقبرہ اور باغ کے مالک دو مختلف وجود ہیں اور یہ کہ باغ کے حقیقی مالک ہندوستان سے پاکستان جا چکے ہیں لہذا اسے شرنارتھیوں کے نام الاٹ ہونا چاہیئے یہ سب کارروائی چونکہ صریر کاغیر قانونی ، ناجائز اور خلافت حقیقت تھی اس لئے جماعت احمدیہ قادیان کی طرف سے احتجاج کیا گیا اور ذمہ دار افسران کے سامنے باغ کی مذہبی حیثیت رہ : : دشن کی طرح واضح کی گئی۔جس پر ڈپٹی کمشنر صاحب نے عارضی طور پر باغ کی الاٹمنٹ کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دیا اور بالآخر ماه تبوک استبر ۱۲ بهمش میں مشرقی پنجاب کی صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا کہ بڑا باغ اور مقبرہ ہر تنور جماعت احمدیہ کے قبضہ میں رہیں گے۔البتہ باغ کے ساتھ اور اسی میں شامل دو باغیچیوں پر در دنیوں کا قبضہ درست نہ سمجھا۔یہی فیصلہ بہشتی مقبرہ سے ملحق ایک کھیت کی نسبت کیا گیا جو اس کی توسیع کے پیش نظر موادی مد علی صاحب سیالکوئی پنجابی شاعر سے لیا گیا تھا۔لیکن ہندوستان کی احمدی جماعتوں کے مسلسل احتجاج اور پیم درخواستوں کے نتیجہ میں وہ مسلح جنوری یا پیش کو موخر الذکر فیصلہ بھی منسوخ کر دیا گیا۔1901 ہش کے آخر میں بھارت سرکار نے فیصلہ کیا کہ تادیان رینسیو بھی ٹاؤن ہے۔اس فیصلہ کے نتیجہ میں قادیان کی اراضی اور دوسری جائدادیں بانا بطہ طور پر غیر مسلم پناہ گزینوں کو الاٹ کر دی گئیں بھالانکہ اس سے قبل قادیان کی جانداروں پر محض اراضی قبضہ دیا گیا تھا۔سماعت ہائے احمدیہ ہندوستان نے قرار دادیں پاس کہیں کہ صدنہ نجمین احمدیہ قادیان کی قادیان کی جائدادیں اس کو واپس دلائی جائیں۔یہ معاملہ بہت طول کھینچے گیا اور سالہا سال تک کوئی شنوائی نہ ہوئی۔بالآخر اش میں بھارتی حکومت نے تسلیم کر لیا کہ ه به وی بزرگ میں جین کی تبینی پنجابی نظمیں سن کر مسرت کے موعود علیہ السلام نے ۴ار نومبر شاہ کو دربار شام میں اظہار خوشنودی کرتے ہوئے ارشاد فریبا " یہ عمدہ کام ہے اور اس زمانہ کا یہی جب دہے جو لوگ پنجابی سمجھتے ہیں آپ ان کے لئے مفید کام کرتے ہیں " ( ملفولات سبد ، صفحه ۲۰۶۰۱۲۰۵)