تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 53
۵۲ جمیدہ نگاروں کا قافلہ مندر جہ ذیل شخصیتوں پرمشتمل تھا :- کرنل فیض احمد صاحب نبیض رجبیعت ایڈیٹر پاکستان ٹائمز، میاں محمد شفیع (چیف رپورٹر پاکستان ٹائمز، مسٹر جمیل الزمان (چیف رپورٹر سول اینڈ ملٹری گزٹ) مولانا عبد المجید سالک مدیر اعلئے روزنامہ انقلاب) سردار فضلی (چیف رپورٹر روز نامہ احسان ) میاں صالح محمد صدیق رحیف نیوز ایڈیٹر روز نامہ مغربی پاکستان مولانا باری علیگ (برٹش انفارمیشن سروس) چودھری بشیر احمد (نائب مریمه روز نامه سفینه ) مسٹر عبداللہ بٹ (برٹش انفارمیشن سروس) مسٹر عثمان صدیقی (مینجر اینڈ چیف رپورٹرسٹار نیوز ایجینسی) پروفیسر محمد سرور (مدیر هفته وار آفاق جناب محمد صدیق ثاقب زیر وی ( نامہ نگار خصوصی الفضل ) معرفہ مہمانوں کے لئے نصب شدہ خیموں میں سے ایک خیمہ کے اندر کھانے کا انتظام تھا جو تعلیہ اسلام ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب کے سپرد تھا اور جنہوں نے اس فریضہ کو اس احسن طریق سے سر انجام دیا کہ تبد یدہ نگاروں نے ربوہ سے رخصت ہوتے وقت ان کا بہت بہت شکریہ ادا کیا۔کھانے کے بعد حضور نے پولیس کے نمائندوں کو خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس زمین کو حکومت بالکل ناقابل کاشت قرار دے چکی ہے۔گرمی کے متعلق ریسرچ والوں کا کہنا یہی ہے کہ یہاں گرمی بہت زیادہ پڑے گی۔لیکن ہم اس جنگل کو منگل بنانے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔ایک عرصے کی کوشش کے بعد پانی نکلا ہے لیکن وہ نمکین زیادہ ہے لہذا ابھی مزید کوشش کی جائے گی۔حضور نے "مربوع “ پر آباد کئے جانے والے شہر کا نقشہ سامنے رکھ کر بتایا کہ اس کی تعمیر امریکی طرز پر ہو گی جس میں ہسپتال ، کالج، سکول ویٹرنری ہسپتال ، ریلوے سٹیشن ، ڈاک خانہ ، واٹر ورکس اور بجلی گھر کے علاوہ صنعتی اداروں کے لئے بھی ایک طرف جگہ چھوڑی گئی ہے۔حضور نے بتایا کہ ہم فی الحال پختہ بنیادوں پر کچی دیواریں ہی کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور اس پر کم از کم تخریج کا اندازہ ۱۳ لاکھ روپیہ ہے۔اس کے بعد جب ہمیں اللہ تعالے پختہ مکانات تعمیر کرنے کا موقعہ دیگا تو مزید ۱۷-۱۸ لاکھ روپیہ خرچ ہوگا۔گویا تیس لاکھ کے قریب رقم تو اس پر سلسلہ ہی کو خرچ کرنی پڑیگی۔دوسرے لوگ جو اپنے مکانوں پر خرچ کریں گے وہ اس کے علاوہ ہو گا۔اس سے آپ لوگ اندازہ کر سکتے ہیں