تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 48
ام یہ امین ربوہ سے متعلق حضرت مصلح موعود کی بھاری فرمودہ ہدایات و ارشادات کی تعمیل کے لئے معرض وجود میں لائی گئی تھی اور اس نے حتی المقدور اپنا یہ فرض نہایت عمدگی سے نباہنے کی کوشش کی۔عارضی تعمیرات کے لئے حضرت مصلح موعود اپنے تو یہ فراست اور دور بین نگاہ سے ابتداء ہی میں اس نتیجہ تک پہنچ چکے تھے کہ ربوہ کی مستقل آبادی سے پیشتر اس جگہ ضروری سامان کی فراہمی عارضی رہائش گاہوں یا جھونپڑوں کا بندوبست بہت ضروری ہے ظاہر ہے کہ یہ مقصد سرکنڈا ، عمارتی سامان اور کچی اینٹوں کی تیاری کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ربوہ سے تیرہ چودہ میل کے فاصلہ پیر با ہیوال کے علاقہ میں سرکنڈوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود تھا بو خرید لیا گیا جس کی عمومی نگرانی چودھری عبد اللطیعت صاحب اور سیٹر واقف زندگی کے سپرد ہوئی اور باہیوال سے ربوہ تک کی ڈھلائی کے منتظم بدر سلطان صاحب اختر واقف زندگی بنائے گئے۔عمارتی سامان سے متعلق حضور کا فرمان مبارک یہ تھا کہ سامان ارزاں اور اتنی کثیر تعداد میں خورید کیا جائے کہ نہ صرف مرکزی ضروریات پوری ہو جائیں بلکہ ربوہ کے دوسرے احمدی بھی اس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔ایک عمومی ہدایت یہ بھی تھی کہ دروازوں اور کھڑکیوں کا ایک ایسا معین ماڈل بنا لیا جائے جو ہر رہائش گاہ کے لئے سود مند ثابت ہو سکے حضور نے عمارتوں کی تعمیر کے لئے لکڑی کے چھوٹے ٹکڑوں کی خرید کا بھی حکم دیا۔حضرت امیر المؤمنین کی ان اصولی ہدایات کی روشنی میں وزیر آباد ، نوشہرہ، جہلم اور پشاور وغیرہ میں عمارتی سامان کی جستجو کی جا رہی تھی کہ ڈی بی ہائی سکول بھا گھٹا نوالہ (ضلع سرگودھا) کے ایک مخلص احمدی ماسٹر جناب ممتاز صدائی صاحب کا ۱۹ر اتحاد) اکتوبر بارش کا ایک خط حضرت مصلح موعود کی خدمت میں پہنچا کہ یہاں ایک ہوائی اڈے کا سامان قابل فروخت بہت بڑی مقدار میں پڑا ہے اور خان میاں خالی نہیں سرگودہا کی تحویل میں ہے۔اس اطلاع پر چودھری عبداللطیف صاحب اور سیر کو بھجوایا گیا جنہوں نے آکر یہ خوشکن رپورٹ دی کہ سامان واقعی کافی مقدار میں ہے اور اچھی حالت میں ہے۔حضور نے ارشاد فرمایا " یہ سامان تو نعمت غیر مترقبہ ہے۔فوراً آدمی جا کر سب سامان خرید لے۔یہ مل جائے تو عمارت کا خرچ ہم کم ہو جائے گا۔فوراً آدمی جائے