تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 41
۴۰ ادارہ نہیں ہے۔ٹاؤن پلینز نے لکھا ہے کہ جنوب مشرق کا جو حصہ انجمن نے مانگا ہے اور جسے نقشہ پر گریں ظاہر کیا گیا ہے وہ نشیب میں ہے اس لئے وہاں عمارتیں نہیں بننی چاہئیں۔نقشہ کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمین کے فروخت ہونے سے پہلے صرف دو مکان فروخت شدہ زمین میں تھے۔اور وہ اس شکریہ میں تھے جیسے گرین ظاہر کیا گیا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایسا نشیب نہیں جیں میں پانی کھڑا ہوتا ہو ورنہ یہ نہ ہوتا کہ سارے رقبہ کو چھوڑ کہ مکان بنانے والے صرف نشیب کا انتخاب کرتے۔دوسرے نقشہ یہ ایک نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جگہ جیسے ٹاؤن پلیز صاحب نے ہیوی انڈسٹری کے لئے منتخب کیا ہے جس کے لئے بہت اونچی زمین کی ضرورت ہوتی ہے۔اس رقبہ کی نسبت بہت نیچی ہے۔چنانچہ نقشہ میں دیئے ہوئے کنٹور کے مطابق ساؤتھ ایسٹ کی مطلوبہ زمین کالیول ۵۹۳ سے ۵۹۷ ہے اور ساؤتھ ویسٹ کا جو علاقہ ٹاؤن پلیز صاحب نے ہیوی انڈسٹری کے لئے رکھا ہے اس کا کنٹور ۵۸۹ سے ۵۹۲ تک ہے۔گویا رقبہ مطلوبہ کا لیول اس رقیہ سے جیسے آباد کرنے کا ٹاؤن پلیز نے خود نقشہ بنایا ہے چار فٹ اونچا ہے۔لیکن یہ سوال مقامی نہیں بلکہ آئندہ جو قصبے عقل پراجیکٹ یا دوسری جگہوں میں نہیں گے ، سب پر اس کا اللہ پڑے گا اور یہ مثال بن جائے گی۔( ملخص ختم صدر انجین احمدیہ پاکستان کی رقبہ آبادی میں اضافہ کی یہ قانونی قانونی بعد وجد میں کامیابی سارہ جوئی اور جدو جہد بہت حد تک کامیاب ہوئی جو محض خدا کے فضل و کرم اور حضرت مصلح موعود کی دعاؤں کا نتیجہ تھا ورنہ باہمی خط و کتابت اور افہام و تفہیم کے درمیان ٹاؤن پلینر کی تجویز کے ماتحت یہ سوال بھی اُٹھا دیا گیا کہ حکومت پاکستان زمین ہی ضبط کرے۔ربوہ کی آبادی کے اعتبار سے پانی کی دستیابی کا مسئلہ نقشہ کی تیاری سے پانی کی فراہمی کا مسئلہ بھی زیادہ اہم تھا۔اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو ابتدا ہی سے اس طرف خاص توجہ تھی۔حضور کا منشار مبارک یہ تھا کہ پانی کے انتظام کا جائزہ لے کر ربوہ کے بالائی حرف