تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 27 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 27

۲۶ حضرت مصل مونود کی طرف سے اس مکتوب پر حضرت سینا الصلح الموعود رضی الہ تعالی عنہ نے ہر اور ور افادر اکتوبرش کو شہر کی آبادی کے لئے نہایت اہم راہنما اصول۔راہنما اصولوں کی تعیین تبریز رائے چنانچہ ارشاد فرمایا۔فروخت کا سوال نہیں ہ کمیٹی بنائی گئی ہے تقسیم قطعات کے متعلق اُن اصولوں کے مطابق فیصلہ کرے گی ہو شائع ہو چکے ہیں یا آئندہ بنائے جائیں گے۔اس کا انچارچ اور سیٹر ہو گا۔اس کے متعلق اصول یہ ہونا چاہیئے۔دل جس ترتیب سے روپیہ آتا ہے اسی کے مطابق قطعات دیئے جائیں۔جو روپیہ پہلے دیتا ہے اس کا پہلے حق ہے۔ب، وسر اگر قرآن مجید نے بیان فرمایا ہے کہ جوشخص جنت میں اعلیٰ مقام قرب کا حاصل کرتا ہے تو اس کے قریبی رشتہ داربھی انعام کے طور پر قریب رکھے جاتے ہیں۔اسی طرح یہاں بھی جو شخص پہلے روپیہ دے تو اُس کے قریبی رشتہ داروں کو اس کے قریب رکھنے کی رعایت دی جا سکے گی۔بشرطیکہ اس کی وجہ سے کسی کا حق نہ مارا جائے اور سلسلہ کا نقصان نہ ہو۔(ج) انشین اور تحریک کی عمارتوں کو مقدم رکھا جاوے۔(د) میں شخص کو زمین ملے اس کے کاروبار کے لئے بھی قریب کی زمین رکھی جاوے۔مثلاً دکان کا قریب بنانا۔اس بات کی اہمیت رکھی جائے گی۔اس دلیل کو بہ نسبت دوسری بات کے زیادہ مانا جائے گا بشرطیکہ رہ دوکان اپنی ذات میں مضر نہ ہو۔جس چیز میں ہماری پالیسی اس کے مغلات ہوگی اُس میں اُس کا یہ حق نہ ہوگا یا کیریکٹر کے لحاظ سے۔اسی طرح کوئی دوسرا کام جو معیشت سے تعلق رکھتا ہو مثلاً دفتر، کارخانہ۔اس صورت میں اس کی مرضی کا خیال رکھا جائے گا لیکن سلسلہ کی ضرورت مقدم ہوگی۔مفت تقسیم کے لئے بھی کچھ اصول پہلے مقرر کئے جائیں۔مثلاً (3) تر یاد اور جن کے ذاتی مکان قاریان نہیں تھے۔اب مختلف پیشہ وروں کو مد نظر رکھا جائے۔زمین میں سبھی جائے گی لیکن مقدم رکھیں گے مکان والے کو کیونکہ زمین والا اس پلاٹ کے بغیر نہیں رہ رہا ہے۔(ج) غریب تجمد قادیان میں رہتا تھا نہ ه نقل مطابقتی اصل۔