تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 25
MY اُس کی آگے تکمیل ہو۔پھر ہم نے اس میں یہ بھی دیکھتا ہے کہ کس طرح خرچ کم کیا جائے۔پرائمری سکول فوراً ہمارے جاتے ہی شروع ہو جائے جس دن جائیں اسی دن سکول شروع ہو جائے۔لکڑی ، ریل تو فوراً جمع ہونی چاہئیے۔اگر یہ جمع ہو جائیں تو کام شروع ہو سکتا ہے۔فوراً نام وارد فہرست بنا کر مجھے دیں کہ فلاں عملے کے لئے کتنے مکان چاہئیں۔" ہ بھی دیکھا جائے کہ کچے مکان وہاں رہ سکتے ہیں یا نہیں ؟ اگر رہ سکتے ہوں تو کچھے مکان بنا لئے جائیں کیونکہ پانچ سات مکانات کا بنا کر توڑنا مشکل نہیں اس حالت سے جو اب ہے“ وکیل المال کے دونوں افسروں میں سے ایک وہاں فوراً بھائے تاکہ روپیہ وصول ہو سکے۔وہاں ڈاک خانہ والوں کو کھنا چاہیے جیسں میں عزیز احمد کو اتھارٹی ہو۔فوراً ایک افسر اور کلرک تحریک وکیل المال وہاں جائے جب تک ذمہ دار افسر نہیں جائیں گے، کام نہیں ہو گا۔شہروں اور قوموں کی آبادی بغیر تکلیف کے نہیں ہوتی ہے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا مکتوب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سر انار / اکتوبر ار میش کو حضرت مصلح موعود کی خدمت میں ربوہ حضرت مصلح موعود کی خدمت میں ۶۱۹۴۸ سے انتظامات سے متعلق حسب ذیل مکتوب لکھا :- قیام مرکز ربوہ کے کام کو سرسری نظر سے دیکھنے پر مجھے احساس ہوا ہے کہ یہ کام کسی اچھی تنظیم کے ماتحت نہیں پھیل رہا اور تقسیم کار بھی درست نہیں ہے۔کام کے ایک حصہ کے متعلق جو کسیٹی بنائی گئی ہے اس کا کام صرف اتنا تجویز کیا گیا ہے کہ وہ ضروری اطلاعات مہیا کرے۔رخواست ہائے خرید اراضی کا کام بھی امور عامہ سے تو لے لیا گیا ہے مگر ابھی تک کسی اور کے سپرد نہیں ہوا۔میرے خیال میں بہتر ہوگا کہ قیام مرکز کے تعلق میں مختلف قسم کے کاموں کی تعیین کر کے پھر انہیں مختلف ذمہ دار افسروں کے سپرد کر دیا جائے اور بعض افسروں کے ساتھ مشورہ کے لئے کمیٹیاں بھی مقرر کر دی جائیں۔موجودہ صورت میں غلط فہمی پیدا ہو رہی ہے جس کے نتیجہ میں کام کا بھی نقصان ہو رہا ہے۔جو کام میرے ذہن میں آئے ہیں اُن کا نقشہ ذیل میں درج کر کے ارسال خدمت کر رہا ہوں۔اگر حضور اسے منظور فرمائیں تو پھر اِن ے زیر مشاورتی مجلس ( رتن باغ لاہور)