تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 279
یقینا نواب محمد دین صاحب مرحوم کے سر پر ہے اور یہ عزت اور رتبہ انہی کا حق ہے کا جب تک یہ ملامت قائم رہے گی۔لوگ ان کے لئے دعا بھی کریں گے اور ان کی قربانی کودیکھ کر نوجوانوں کے دلوں میں یہ نہ بھی دیا ہوگا کہ ان جیسا کام کیا کہ ایک بڑھا بیمار اور بکر در آدمی اور کیا اس کی یہ حالت کہ وہ دین کو بھی وہاں موجود ہے۔رات کو بھی وہیں موجود ہے اور اپور میں پیش کر رہا ہے کہ آج میں خلال سے ملا تھا۔آج خلال سے ملا تھا۔اب بھی جب مری میں۔تھے وفات سے دس دن پہلے انہوں نے مجھے لکھا کہ اب ربوہ میں تعمیر کا کام شروع ہونے والا ہے اور چونکہ یہ کام نگرانی چاہتا ہے۔اور میری صحت ٹھیک ہوگئی ہے اس لیے میرا ارادہ ہے کہ ربوہ چلا جاؤں اور کام میں مدد دول بغرض ہرکارے وہ سر دے سینکر دل کام ہوتے ہیں لیکن بہت برکت والا ہوتا ہے۔وہ آدمی جس سے کوئی ایسا کام ہو جائے جو اپنے اندر تاریخی عظمت رکھتا ہو۔میں سمجھتا سول کہ اس کام کا ان کے ہاتھ سے ہوتا ان کی کسی بہت بڑی نیکی کی وجہ سے تھا اور میں ہو سکتا ہوں کہ وہ مجھے آئے مگر آگے گزر جائے۔صحت سے پہلے وہ اندیت کے قائل تو تھے۔چنانچہ جب وہ دہلی میں افسر مال لگے ہوئے تھے اور میر قاسم علی صاحب رہاں تھے تو انہوں نے اپنے لڑکے چوہدری محمد شریف صاحب وکیل کی بیعت کرادی تھی لیکن خود بعیت نہیں کرتے تھے غالباً ۱۹۲۷ میں انہوں نے بعیت کی ہے مجھے یاد ہے جب انہوں نے بعیت کی تو ساتھ یہ درخواست کی کہ میری صحت ابھی مخفی رہے انہوں نے کہا ہیں ریٹائر ہو چکا ہوں اور اب ملازمتیں ریاستوں میں ہی مل سکتی ہیں۔اس لئے اگر میری بعیت نما ہر زہر ت ملازمت حاصل کرنے میں سہولت رہے گی۔جب وہ ہمارے سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں اس وقت • ور ریاست مالیر کو شہر یا جے پور میں ملازم تھے۔بعیت کر کے وہاں جانے کی بجٹ مشکلہ چلے گئے۔ہمیں بھی چند دنوں کے لئے شملہ گیا اور انہوں نے مجھے دعوت میں بلایا اور کہا۔اور تو میں کوئی خدمت نہیں کو ایک لیکن یہ کر سکتا ہوں کہ دعوت پر بڑے بڑے آدمیوں کو بلا نواں اور آپ کا دانت کر دوں اور مجھے تو اب مل جائے گا میں دعوت پر چھا گیا۔انہوں نے بڑے بڑے آدمی بلائے ہوئے تھصہ میں اس انتظار میں تھا کہ کوئی اعتراض کریں، اور میں اس کا جواب دوں کہ درہ کھڑے ہو گئے اوروا امرین کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے تقریر میں انہوں نے کہا یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ امام جماعت احمدیہ یہانی