تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 267
آیت قُلْ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي اسید نا حضرت السلع الموجود له رب العالمین کا لطیف اور پر منان الخیر العمل الاخوات خلیفہ المسیح الثانی نے ۲۵ را خال التوبه ۲۵ اسی / ۱۹۳۶ ء کو عالم رویا سی ویکھیا کہ: و بہت سے لوگ منبع ہیں دال میں اُن کے سامنے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر تعریے کر رہا ہوں اور آیت قل ان صلواتی و نسکی و محیای و هماتي لله رب العالمين کولے کر اس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہوں۔فرمایا: اس سے میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالے نے بیج کے طور پر اس آیت کے مطالب کو میرے قلب میں داخل کر دیا ہے اور جب ضرورت ہوگی وہ اس کے مطالب کو میرے ذریعہ سے روشن دریائے یہ ایک عظیم پیشنگوئی سفر کو ٹر کے دوران پوری ہوگئی جب کہ حضور نے اس آیت کریمہ کی لطیف تفسیر چہ ایک سلسلہ خطبات شروع از بایا بوه از ظهور را اگست سے لے کرہ اور ظہور راکت تک جاری رہا۔ان یه معارف خطبات میں حضور انور نے ایک نئے اسلوب اور اچھوتے اور دل نشین پیرائے میں یہ حقیقت روز روشن کی جرات نما این کمر دکھائی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عباد ہیں ، قربانیاں ، زندگی اور موت حقیقتاً رب العالمین کی رضا اور خوشنودی کے لئے تھی اس سلسلہ کے آخری خطبہ میں مصور نے مسلمانان عالم کی توجہ اس انقلاب انگیز نکتہ کی طرف منعطف فرمائی کہ د رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالے نے تمام مسلمانوں کا مطاع قرار دیا ہے میں آپ پہنچا ایمان رکھنے والوں کا فرض ہے کہ میں طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نوع انسان کے لئے انتہائی قربانیوں کا مظاہرہ کیا اسی طرح وہ بھی اپنی اپنی روحانی استعداد کے مطابق ان قربانیوں میں حصہ لیں تاکہ اللہ تعالے انہیں بھی محمد رسول اللہ لی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں جگہ دے اور جس مارح آپ تمام اندار سے افضل ہیں اس طرح آپ کی امت بھی اپنی قربانیوں میں تمام امتوں نے فصل له الفضل المار الطاور اکتو به ۳۳۵اش کر ۶۱۹۴۶