تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 15
۱۴ مو تقسیم فلسطین اور اقوام متحدہ " کا عربی ٹریکٹ پیش کیا جسے شاہ نے بخوشی قبول فرمایا اور پورے ٹریکٹ پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے جب اس میں جنرل سمطس کا نام دیکھا تو فرمایا دشمن فلسطین" پھر فرمایا کہ " میں اسے غور سے پڑھوں گا اور انشاء اللہ فائدہ اُٹھاؤں گا " آخر میں بادشاہ نے مملکت اردن اور پاکستان کے اسلامی روابط و تعلقات اور ایجاد و اتفاق پر گفتگو فرمائی۔شاہی محل قصر یخدان میں ملک منظم سے یہ طاقات ببیس منٹ تک جاری رہی۔اس ملاقات کی خبر عمان کے اخبار ” الاردن " نے اپنی ۲۱ رجب لاء مطابق ۲۹ منی شار کی اشاعت میں دی ہے గా سلطنت اُردن کے قدیم اور تاریخی شہر الکرک کو یہ شرف حاصل ہوا ارون کے سب سے پہلے احمدی کہ اردن میں سب سے پہلے وہں احمدیت کا بیج بویا گیا اور شہور کے پہلے احمدی دردوں قبيله المعایطہ کے سروالہ کے بڑے لڑکے السيد عبد الله الحاج محمد المعايطة اُن کے بعض افراد خاندان داخل سلسلہ احمدیہ ہوئے اور ارون مشن اگر چه صرف سو سال تک قائم رہ سکا تاہم اله تعالی اردن میشن کی اسلامی خدمات کے فضل کرم سے اس نہایت قلیل عرصہ میں اس کو خاصی ادات انا انا رسولہ اسکو زائرین کی نظر میں اہمیت حاصل ہو گئی اور اس کی اسلامی خدمات ملک کے اُونچے اور علمی طبقے میں بڑی قدر اور احترام کی نظر سے دیکھی جانے لگیں۔اس حقیقت کا اندازہ ان تاثرات سے بخوبی ہو سکتا ہے جو اردن میشن کی اسلامی خدمات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے اور میشن میں آنے والے زائرین نے خود قلمبند کئے اور جو ریکارڈ میں اب تک محفوظ ہیں۔بین شخصیات کے تاثرات نہیں اس ریکارڈ میں ملتے ہیں ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔۱۳۲ له مطيوع الفضل الرفتح او سمر کی یہ مضمون پر دھری محمد شریعت صاحب فاضل اینجاست احمدی شین بلاد عربیہ نے انہیں دنوں ترجمہ کر کے عربی ممالک میں بکثرت شائع کیا تھا که مشخصا از الفصل یکم تبوک استمبرش صفحه ۰۲ کے مولوی صاحب موصوف کو اس کے بعد بھی شاہ معظم سے اسی سال دو بار ملاقات کا موقعہ ملا۔یہ ملاقاتیں حضرت مصلح موعوتوں کے مسئلہ فلسطین سے متعلق مطبوعہ عربی ٹریکٹ پیش کرنے کی غرض سے تھیں