تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 252
۲۴۲ جلسے کے ایام کے لئے گاڑیوں کے ساتھ کافی زائد ہوگیاں لگا دی گئی تھیں۔مہمانوں کی طبی امداد کے لئے حسب سابق نور ہسپتال ہی یہ خدمت بجا لاتا رہا جس کے انچارج حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب تھے۔گورنمنٹ نے بھی سول ہسپتال چنیوٹ کے انچارج کو ہدایت کی تھی کہ وہ بھی جلسہ کے موقع پر اپنے عملہ کو بھجوائے۔الحمد للہ۔اس قدر کثیر مجمع میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر طرح خیریت رہی۔جلسہ میں حفاظت کا کام مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سپرد تھا۔خود صدر محترم حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نفس نفیس اس کی نگرانی فرماتے رہے۔آپ کے نائب مرزا بشیر احمد بیگ صاحیتے۔یہ جلسہ چونکہ انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں ہو رہا تھا۔اس کے انتظام کے لئے خود حضر امیرالمومنین خلیفہ اسیح الثانی نے غیر معمولی طور پر توجہ فرمائی اور باوجود ناسازئی طبع کے ان ایام میں از حد مصروف رہے۔بیرونی جماعتوں سے ملاقاتیں کرنے اور نہایت پر معارف اور مفصل تقاریر ارشاد فرمانے کے علاوہ حضور نے انتظامات جلسہ کے ہر شعیہ اور ہر پہلو کی ذاتی نگرانی فرمائی چنانچہ حضور لنگر خانہ میں تیاری تقسیم طعام کی مشکلات کو حل کرنے اور دیگر ضروری اور فوری ہدایات کے لئے بعض اوقات خود تشریف لاتے رہے۔چنانچہ ایک موقعہ پر رات کے ایک بجے اور ایک دن پا ۲ بجے دو پر حضور لنگر خانہ میں تشریف لائے اور اپنی مفید اور ضروری ہدایات سے مشکل کشائی فرمائی۔اسی طرح ار اپریل کو شام کی گاڑی پر حضور خود تشریف لے گئے اور چونکہ قلیبوں اور مزدوروں کا کوئی انتظام نہیں تھا اور ڈر تھا کہ ہنگامہ میں کوئی سامان ضائع نہ ہو جائے حضور مسلسل دو گھنٹے تک سٹیشن پر موجود رہے اور پوری حفاظت کے ساتھ جب تک ہر ایک شخص کا سامان اس کی فرودگاہ تک والنٹیروں کے ذریعہ نہیں پہنچ گیا ، حضور وہیں رہے اور اس طرح سب سے پہلے دن عملی طور پر کارکنوں کی تربیت کر کے استقبال کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔ایام جلسہ میں صدر انجمن احمدیہ کے مختلف محکمہ بھات میں اشتراک عمل پیدا کرنے کا کام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے کے سپرد تھا۔اور اس کام میں آپ بعض اوقات d رات کے دو بجے تک مصروف رہے۔کو العف جلسہ کا ایمان افروز تذکرہ کرنے کے بعد بالآخر یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ حضرت مصلح موعود کی منظوری سے صدر انجمین احمدیہ کی طرف سے اس تاریخی جلسہ کی ایک متحرک فسلم کا بھی انتظام الفضل ۲۳ شهادت / اپریل و ۲۱ احسان ایون :