تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 248
۲۳۸ طاقت ہے بلکہ اس لئے کہ میں محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا خادم ہوں۔خدا نے جو وعدے کئے وہ کچھ تو پورے ہو چکے اور باقی آئندہ پورے ہوں گے۔آئندہ جو کچھ ظاہر ہوگا ہمیں اس کیلئے تیار رہنا چاہیے جن کندھوں پر آئندہ سلسلہ کے کاموں کا بوجھ پڑنے والا ہے اچا ہیے کہ وہ ہمت کے ساتھ اس بوجھ کو اٹھائیں یہانتک کہ محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی بادشاہت پھر دنیا میں قائم ہو جائے ہمیں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالے زندگی کی آخری گھڑی تک مجھے اپنے دین کی خدمت کرنے کی توفیق دے اور آپ لوگوںکو بھی اللہ تعالیٰ خدمت دین کی توفیق دے اور آپ اس وقت تک صبر نہ کریں بیتگ کہ اسلام دوبارہ ساری دنیا پر غالب نہ آجائے۔اس کے بعد حضور نے دعا فرمائی اور پھر اس تاریخی بھلسے کے اختتام کا اعلان فرمایا ہے روہ کے پہلے تاریخی میلہ سالانہ کے دیور کے اس پہلے تاریخی جلسہ سالانہ کے تمام انتظامات بھی حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب بی اے بی ٹی ناظر فیات کوائف پر ایک طائرانہ نظر کو کے سپرد تھے اور حضرت صاحبزادہ مرزاغز نیز احمد صاحب ایم اے اور میاں عبدالمنان صاحب عمرایم اسے آپ کے نائب اور موادی محمد شفیع صاحب اشرف واقف زندگی انچارج دفتر کے فرائض بجا لاتے رہے۔نظارت سپلائی کے انچارج جناب قاری محمد امین صاحب تھے اور جلسہ کے انتظامات کے متعلق تمام اشیاء کی فراہمی کا انتظام آپ کے سپرد تھا۔نظامت کے سٹور کے انچارج عبد الو سید خان صاحب تھے۔مہمانوں کے قیام و طعام کا بندوبست ناظم جلسہ کی حیثیت سے حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب بی اے بی ٹی بیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ذمہ تھا۔آپ کے نائبین صوفی محمد ابراہیم صاحب، صوفی مقام محمد صاحب ، ماسٹر ابراہیم صاحب بی اے ، ماسٹر ابراہیم صاحب ناصر کتے چودھری حبیب احمد صاحب سیال معاون ناظر ضیافت تھے حضرت شاہ صاحب نے انتہائی بے سرو سامانی اور مشہ کلات کے ہجوم میں اپنے نائبین کے ساتھ عمدہ طور پر اپنی ذمہ داری ادا کی مہمانوں کی خدمت کے لئے تیس کے قریب محکمے اس نظامت کی براہ راست نگرانی میں کام کر رہے تھے مثلاً شعبہ روشنی و شعبه صفائی ، شعبه استقبال شعبه مهمان نوازی جس کے انچارج بالترتیب چودھری عبدالباری صاحب ، چودھری عبدالسلام صاحب انترایم رہے کہ الفضل ۲۱ شہادت ) اپریل مش صفحه ۳ - ۸ i