تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 202
۱۹۵ UNAGRICULTURAL UNCULTIVABLE اُن کی بیوی کی طرف سے نہیں تھا۔ربنا اتی اسكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ - اے ہمارے رب ! میں نے اپنی ذریت کا ایک حصہ اس وادی میں لاکر چھوڑ دیا ہے۔ایک حصہ انہوں نے اس لئے کہا کہ اس وقت تک حضرت اسحق بھی پیدا ہو چکے تھے۔جب اُنہوں نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو ذبح کرنا چاہا تھا اس وقت تک حضرت اسحاق" پیدا نہیں ہوئے تھے۔لیکن جب انہوں نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کو مکہ میں لا کہ کچھوڑا ہے اس وقت حضرت اسحاق پیدا ہو چکے تھے۔اس لئے وہ فرماتے ہیں ربَّنَا إِلَى اسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ۔الہی میں اپنی اولاد کا ایک حصہ اس وادی میں وکر چھوڑ دیا ہے غیر ذی زرع میں میں کوئی کھیتی باڑی نہیں ہوتی جیسے بوہ میں کوئی کھیتی باڑی نہیں ہوتی سرکاری کا غذات میں لکھا ہوا ہے کہ اس رقبہ میں نہ زراعت ہوتی ہے اور نہ اس وقت کی تحقیقات کے مطابق ہو سکتی ہے۔عند بيتك المحرم تیرے پاکیزہ گھر کے پاس۔اس وقت تک خانہ کعبہ نہیں بنا تھا۔لیکن اس آیت سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ کسی زمانہ میں وہاں کوئی پرانا معبد تھا۔اور جو لوگ یہ عقیدہ نہیں رکھتے وہ اس کے معنے یہ کرتے ہیں کہ جو معبد بننے والا ہے اس کے نزدیک میں نے اپنی اولاد کو لا کر رکھ دیا ہے۔تیسرے معنے اس کے یہ کئے جاتے ہیں کہ بیت اللہ در حقیقت تقویٰ کا مقام ہے۔پس عِندَ بَيْتِكَ الحرام کے یہ معنے ہیں کہ میں ایک ایسے مقام کے پاس انہیں چھوڑ رہا ہوں جہاں شیطانی خیالات کا دخل نہیں ہو گا۔یعنی دین کی خدمت کے لئے میں انہیں یہاں چھوڑ رہا ہوں رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ - اے میرے رب میں ان کو یہاں چھوڑ تو رہا ہوں مگر اس لئے نہیں کہ یہ بڑی بڑی کمائیاں کریں یا بڑے بڑے جھتے بنائیں اور فتوحات حاصل کریں بلکہ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ اے میرے رب ! میں اس لئے ان کو یہاں چھوڑ رہا ہوں تاکہ وہ تیری عبادت کو اس جنگل میں قا ئم کریں۔