تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 198 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 198

191 ڈرا نہیں کرتا یہی وہ حقیقی قربانی ہے جو شاندار ہوتی ہے۔اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کا نام لے کر سینہ میں خنجر مار لینا کوئی قربانی نہیں۔وہ بہ دلی ہے ، وہ کمزوری ہے ، وہ دُون ہمتی ہے جو لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے ایک قربانی کی شکل میں پیش کی جاتی ہے۔ورنہ وہ خوب جانتا ہے کہ میں بزدل ہوں لیکن اس لئے کر رہا ہوں کہ دُنیا میں رہ کر میں مصیبتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور وہ سمجھتا ہے کہ چند مصیبتیں آنے کے بعد ہی میرا ایمان کمزور ہو بجائے گا۔اس لئے وہ اپنی زندگی کو ختم کر دیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ حضرت ابا ہمیں علیہ السلام کے ذریعہ اس قربانی کی بنیاد ڈالے جو زندہ رہ کر اور دنیا کی کشمکشوں کا مقابلہ کر کے اور دنیا کی مصیبتوں کو برداشت کر کے انسان پیش کر سکتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سب سے بڑا کارنامہ در حقیقت یہی تھا۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے وہ ردیار دکھائی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ اکلوتے بیٹے کو جو یقیناً اسماعیل تھے ذبح کر رہے ہیں تو چونکہ اس وقت لوگ اپنے بیٹوں کو خدا تعالیٰ کے نام پر ذبح کرتے تھے حضرت ابراہیم نے سمجھا کہ الہی منشاء یہ ہے کہ میں بھی اپنے بیٹے کو خدا تعالیٰ کے نام پر ذبح کر دوں۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسمعیل کو جن کی عمر اس وقت تاریخ سے سات سال کی معلوم ہوتی ہے بتایا کہ میں نے ایسی ایسی رویا دیکھی ہے۔سمعیل ہو اپنے باپ کی نیک تربیت کے ماتحت دین کو سمجھتا تھا اور جس میں یہ جیسی تھی کہ خدالله کے لئے قربانی کرنی چاہیئے اس نے فوراً حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس بات کو قبول کیا کہ خدا تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے آپ اس پر عمل کریں۔میں اسے حضرت اسمعیل کی ذاتی نیکی نہیں سمجھتا۔جب وہ بڑے ہوئے تو یقیناً وہ نیک ثابت ہوئے اور انہوں نے اپنے عمل اور طریق سے خدا تعالے کو اتنا خوش کیا کہ اس نے انہیں نبوت کے مقام پر قائمہ کر دیا۔مر الصبيُّ صَى وَلَوْ كَانَ نَبِيًّا بچہ بچہ ہی ہے خواہ وہ بعد میں نبی ہی کیوں بن جائے سات سال کی عمر میں حضرت اسمعیل علیہ السلام کا یہ نمونہ دکھانا یقیناً حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کی بیوی اور دوسرے رشتہ داروں کی نیکی کا مظاہرہ تھا حضرت سمعیل کی ذاتی خوبی نہیں تھا۔مجھے اپنے گھر کا ایک واقعہ یاد ہے۔میرا ایک بچہ جس کی عمر پانچ چھ سال تھی ایک دفعہ