تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 186
|A۔خیال ہے کہ یہ عمارت ۲۰ - ۴۰ بلکہ ۵۰ ہزار آدمی کے لئے کافی ہوگی۔کیونکہ صرف اسباب اندر رکھتا ہو گا۔سونے کے لئے لوگ باہر لیٹنا زیادہ پسند کریں گے۔اسباب کی حفاظت کو ر نظر رکھتے ہوئے اگر الگ الگ جماعتوں کو رکھا جائے۔تب بھی ہمارا خیال ہے کہ یہ شیڈ ۱۲۔بلکہ ہمیں ہزار آدمی کے لئے کافی ہوں گے۔چونکہ جماعت جب جلسہ پر آتی ہے تو بالعموم اپنے چندے بھی ساتھ لاتی ہے اور بالعموم وہ ان ایام میں اپنے گذشتہ حسابات بھی دیکھنا چاہتی ہے۔اس کے علاوہ مختلف دفاتر سے لوگوں کو مختلف کام ہوتے ہیں۔بعض کو اپنے جھگڑوں اور تنازعات کے سلسلہ میں امور عامہ کے دفتر سے کام ہوتا ہے یا رشتہ ناطہ کے لئے وہ شعبہ رشتہ ناطہ سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں یا بیت المال والوں سے وہ اپنے بجٹ کے سلسلہ نہیں ملنا چاہتے ہیں یا دفتر محاسب میں وہ اپنی امانتیں رکھوانا یا اپنی امانتیں نکلوانا چاہتے ہیں اس لئے ان دفاتر کے لئے بھی وہاں مکانات بنانے ضروری تھے چونکہ میں نے انجنیروں سے مشورہ کرنے کے بعد اس غرض کے لئے عارضی طور پہ بارہ کمرے بنانے کا حکم دے دیا ہے۔اور وہیں خود انہ بنانے کی ہدایت بھی دے دیا ہے۔اسی طرح جو مستقل افسر ہیں اور جن کو جلسہ سالانہ کے ایام میں رات دن کام کرنا پڑے گا ان کے لئے بھی علیحدہ انتظام کی ضرورت تھی چنانچہ اس کے لئے بھی میں نے کچھ مکانات الگ بنوانے کا فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ کارکنان کو اس کے متعلق ہدایت دے دی ہے۔یہ تمام مکانات صرف عارضی طور پر بتائے جائیں گے ان پر تقریباً ۲۰۱۸ ہزار روپیہ صرف ہو گا لیکن اس میں سے خرچ کا کچھ حصہ سلسلہ کو واپس مل بھائے گا۔مثلاً جب یہ مکانات توڑے جائیں گے تو اُن کی کچھی اینٹیں کچھ تو ضائع ہو جائینگی لیکن انجنیئروں کا خیال ہے کہ دو تہائی اینٹیں آئندہ کی ضروریات کے لئے بیچ جائیں گی اسی طرح ان مکانات میں جو لکڑی استعمال کی جائے گی وہ بھی بچ جائے گی۔ہمارا اندازہ یہ ہے کہ نصف کے قریب خرچ واپس مل بھائے گا اور صرف دس ہزار روپیہ ایسا ہوگا۔جو جلسہ کی خاطر خرچ ہوگا۔میں نے یوں بھی اندازہ لگایا ہے کہ اجمین کے جو دفاتر ہیں وہ قادیان کی نسبت اب بہت بڑھ گئے ہیں۔قادیان میں ہمارا سد کے قریب کلرک تھا لیکن اس وقت غالباً زیادہ ہو چکا ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی دفتر لاہور میں ہے کوئی چنیوٹ