تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 185
169 - رمانہ شہادت / اپریل کو حضرت امیرالمومنین نے فرمایا کہ دفتروں نے جلسہ کے موقعہ پر ربوہ جانا ہے اور افسران نے دن رات کام کرنا ہے ان کے لئے تین سو چار پائیوں کا انتظام کر لینا چاہیئے تا کہ ان کو کام کے بعد آرام کا موقع مل سکے۔نیز پچیس ہزار روپیہ کہیں سے قرض لے لیا بھائے اور آہستہ آہستہ کر کے بجٹ میں رکھ کر اس کو اُتار دیا بھائے اور اس رقم کے ذریعہ برتن اور دیگر سامان غرباء کے لئے خوار کر ربوہ میں کام کرنے والے غرباء میں تقسیم کیا جائے۔ایسا سامان جو ربوہ میں بھائے گا اس کے انتظام کے لئے بابو فضل الدین صاحب سے گفتگو کی جائے۔اگر وہ کام کرسکیں تو سامان کا چارج ان کو دیا جائے اور جب کوئی وہاں جائے تو وہ سامان ان کو دیں اور پھر واپس نہیں ہے حضرت امیر المومنين المصلح الموعود نے المحمود امانی انتقال کی خاطر بہ کا خصوصی مضر صرف ہدایات جاری کرنے پہ ہیں اکتفا نہیں کیا بلکہ نفس نفیس معائینہ انتظامات اور مزید راہ نمائی کے لئے ۲۴ ماه امان مانش کو لاہور سے ربوہ تشریف لائے۔اس خصوصی سفر کی تفصیلات حضور ہی کے مبارک الفاظ میں درج ذیل کی جاتی ہیں حضور نے ۲۵ امان/ مارچ کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :- جلسہ سالانہ کے متعلق جو وہاں انتظامات ہو رہے ہیں۔میں کل ان کو دیکھنے کے لئے ربوہ گیا تھا۔چونکہ اس جگہ پر کوئی رہائشی مکانات نہیں ہیں اس لئے ظاہر ہے کہ ہمیں وہاں رہائش کے ائے عارضی انتظامات ہی کرنے ہوں گے۔چنانچہ اسی غرض کے لئے میں نے انجنیئروں سے مشورہ کرنے کے بعد ساڑھے تیرہ ہزار روپے کی منظوری عارضی شیر ڈر بنانے کے لئے دے دی ہے اور اس میں پچاس شیڈ بنائے بہا رہے ہیں۔ہر شیڈ 14 فٹ لمبا اور 14 فٹ چوڑا ہے۔درمیان میں ستون ہیں۔اس طرح ہر شیڈ دو حصوں پر منقسم ہو جاتا ہے۔ہمارا اندازہ یہ ہے کہ ہر شیڈ میں ۱۲۵ یا ۱۳۰ آدمی آ سکتے ہیں۔اس طرح ۵۰ شیڈ میں تقریباً چھ ہزار آدمی کی گنجائش ہے۔ان میں سے ہیں شیر مستورات کے لئے مخصوص کر دیئے گئے ہیں جن میں ۲ ہزار کے قریب مستورات کے رہنے کی گنجائش ہوگی لیکن چونکہ مسلسہ سالانہ کے ایام آنے تک موسم گرم ہو جائے گا اور لوگ تانبا پسند کریں گے کہ وہ باہر نکل کر سوئیں اس لئے اه و سیر رو داد اجلاس رتن باغ لاہور :