تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 184
16A موم بتیاں جن کی لمبائی کو اچھی اور موٹائی سے ہو د ۳۰۰ بنڈل ڈھائی سو بوری آٹا پسوا یا بھائے اور بوقت ضرورت دو سو بوری آٹا پسوانے کا انتظام رکھا جائے۔پانی جمع کرنے کے لئے ہم ڈیول ائیل کے تعالی ڈرم فضل عمر د لیر 28 انسٹی ٹیوٹ لاہور سے حاصل کئے جائیں اور 100 سیکنڈ ہینڈ ڈرم اور حسب ضرورت گھڑے خرید لئے بھائیں۔فولڈنگ کینوس ٹینک ) FOLDING) کی فراہمی کی کوشش کی جائے اور ٹینکر ic canvas tank ); ( TANKER) کرایہ پر لینے کی کوشش کی جائے۔یہ مہیا نہ ہوں تو چنیوٹ میں سقوں کا انتظام کیا جائے روزانہ پچاس ہزار کچی اینٹ تیار کرانے کی کوشش کی جائے → ۹ - ۲۳ رامان / مارچ کو حضرت مصلح میشود کی خدمت اقدس میں حضرت مولوی عبد المغنی خاں صاحب ناظر دعوت و تبلیغ نے عرض کیا کہ کیا ہندوستان کے مبلغ جلسہ سالانہ میں شمولیت کے لئے پاکستان آجائیں۔فرمایا۔صرف اس صورت میں آنے کی اجازت ہے جبکہ یہاں سے واپس جانے کا پرمٹ بھی ساتھ لے کر آئیں حضور نے ہدایت دی کہ عورتوں کی جلسہ گاہ مردوں کے پنڈال سے ۲۰۰ فٹ پر سے ہٹا کر بنائی جائے اور اس کے گرد قناتیں لگائی بجائیں۔گیلریاں اگر موجود ہیں تو مردوں کے لئے استعمال کی جائیں۔جلسہ کی کارروائی صبح و شام اور رات کو ہو ، دوپہر کو نہ ہو۔پوسٹر شائع نہ کئے جائیں۔اگر لوائے احمدیت اس موقعہ پر لگایا جائے تو ساتھ ہی اتنا ہی اُونچ پاکستان کا جھنڈا بھی نصب کیا جائے۔سنہ اس کے ساتھ ہی مہمانوں کی قیام گاہوں کے لئے ایسی طرز پر بیر کیں بنانے کا حکم دیا جو جلسہ کے بعد مناسب تبدیلی کے ساتھ شہر کی پختہ تعمیر کے آغاز تک دفاتر اور کارکنوں کے رہائشی مکانوں کے طور پر استعمال کی شفا سکیں۔کے ے رجبر روداد اسبلاس ہائے رتن باغ لاہور سے چودھری عبد اللطیف صاحب اودر سیر کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ہر ماہ شہادت / اپریل تک مہمانوں کی سب ہیر کیں پایہ تکمیل تک پہنچ گئیں۔اسی طرح حضور کی عارضی رہائش گاہ بھی قریباً مکمل ہو س کی تھی۔البتہ ناظر صاحبان کے اٹھارہ کمروں کا سیٹ ابھی زیر تعمیر تھا