تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 125
۱۲۰ جیرا نکال دیا جائے اور ہندوستانی فوجوں کے استعمال سے احمدیوں کو وہاں سے نکال کر ہندووں اور سکھوں کو اس بستی کا قبضہ دلایا جائے۔ہم انسانیت اور انصاف کے نام پر ہندوستانی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ قادیان اور ماحولھا کوئی الفور فرقہ احمدیہ کے حوالے کر دیا جائے۔اگر ہماری یہ استدعا منظوری کا شرف حاصل کرنے سے قاصر رہی تو واضح رہے کہ ہم اپنا سب کچھ قربان کر دینے کا تہیہ کر چکے ہیں اور جب تک تمام غلط کاریوں کی تصحیح نہ ہو جائے، ہماری قربانیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔فسادات ۱۹۴ ء میں مندرجہ ذیل متخلص احمدی قادیان مشرقی پنجاب کے احمدی قیدیوں کی رہائی اور اس کے ماتول سے گرفتار کئے گئے تھے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ، حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اسے جمبر پنجاب اسمبلی ، میجر چودھری شریف احمد صاحب باجوہ بی۔اے۔ایل۔ایل۔بی ، مکرم مولوی احمد خاں صاحب نشستیم و سابق مبلغ اسلام بر ما ، مگرم چودھری عبد العزیز صاحب محتسب امور عامه ، حکم چودھری علی اکبر صاحب در ملیں ماڑی بچیاں، مگرم جود مصری محمد عبداللہ صاحب کو ٹلہ صوبا سنگھ ، ڈاکٹر سلطان علی صاحب آفتہ ماڑی بچیاں۔وغیرہ ان احباب کو گورداسپور اور بحالند در حین میں قید و بند کے انسانیت سوز مظالم برداشت کرنے پڑے۔افسران جیل کا ارادہ انہیں مروا دینے کا تھا اور اس غرض کے لئے سیکھے بھی مقرر کئے جاچکے تھے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک طرف حضرت امیر المومنین مصلح موعود کو خواب میں دکھایا گیا کہ " سید ولی اللہ شاہ صاحب آتے ہیں اور میرے پاس آکر ساتھ بیٹھ گئے ہیں، دوسری طرف خود حضرت سید زین العابدین ولی الله شاہ صاحب اور دوسرے اصحاب کو عالم رویاد میں رہائی کی بشارتیں دی گئیں۔چنانچہ ان مبشر خوابوں کے عین مطابق یہ حضرات بین الملکتی معاہدہ کی بناء پر ہر ماہ شہادت اپریل میش کو جالندھر جیل سے لاہور کی سنٹرل جیل میں منتقل کئے گئے سے حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال لاہور پہنچتے ہی اور دوسرے حضرات ارماہ شہادت اپریل میش کو ضمانت پر رہا کر دیئے گئے۔NA اه انقلاب ۱۸ جنوری ۱۹۴۷ از صفحه ۴ له الفضل ، رافاه / اکتوبر ہمیشہ سے قیدیوں کی سپیشل " * ٹرین لاہور چھاؤنی سٹیشن پر پہنچی تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت نواب محمد دین صاحب شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ لاہور ، چودھری اسد اللہ خان صاحب بار ایٹ اور دو سر احمدیوں پر جوش استقبال کیا والفضل اشہاد در ایمیل سر میں صفوی) 1977