تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 118
اس کے بعد حضور نے نئے مرکز کے قیام کے سلسلے میں بعض منافقین کی طرف سے پھیلائے ہوئے اس شبہ کا ذکر کیا کہ نئے مرکز کا قیام بتاتا ہے کہ گویا ہمیں قادیان واپس ملنے میں شبہ ہے۔حضور نے فرمایا۔ا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے سلسلہ کا مستقل مرکز قادیان قرار دے دیا تو پھر کسی احمدی کہا نے والے دل میں مشبہ کس طرح پیدا ہو سکتا ہے۔جبہ حضرت مسیح موتو دعلی استلام کی دیگر ہزاروں پیشنگوئیاں پوری ہوئیں تو ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ قادیان کے مرکز رہنے کی پیشگوئی نعوذ باللہ پوری نہ ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں صراستہ قادیان سے نکلنے کی پیشگوئی موجود ہے۔ہم ہندو مجھے اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت گذشتہ سال کے واقعات کی تفصیلاً اطلاع دی بوستانہ میں شائع بھی ہوچکی ہے اور وہ لفظ بلفظ پورکی ہوئی۔اس اطلاع میں نئے مرکز کے قیام اور قادیان کی واپسی کی خبر بھی موجود ہے۔جب خدا نے انذار والے پہلو پور سے گئے تو ہم کس طرح گمان کر سکتے ہیں کہ وہ شیر کے پہلو پورسے نہ کرے گا۔اس موقعہ پر کسی صاحب نے رافعہ کے ذراجہ دریافت کیا کہ کیا حضور کو پاکستان کے متعلق بھی کوئی اطلاع خدا تعالے کی طرف سے ملی ہے۔حضور نے فرمایا :- اسلام کی ترقی مخدائی تفت دیروں میں سے ایک تقدیر ہے۔یہ قطعی اور یقینی بات ہے کہ اسلام اب آگے ہی کی طرف قدم بڑھائے گا۔اب اسلام ہی کے غالب ہونے کی باری ہے۔اب کفر کے غالب ہونے کی باری ختم ہو چکی ہے۔حضور نے سلسلہ تقریہ بھاری رکھتے ہوئے بتایا کہ قادیان کی تقدیس اسلام کی اشاعت اور اسلامی تعلیم کے قیام کا مرکز ہونے کی وجہ سے تھی۔اگر چیز اب قادیان کی بجائے کسی اور مقام سے شروع ہو جائے گی تو وہ مقام بھی بابرکت ہو جائے گا۔اسی طرح جس طرح ہجرت نبوی کے بعد کہ مکہ بھی با برکت رہا مگر خدا نے مدینہ کو بھی برکت دے دی جبری طرح گو اصل مسجد خانہ کعبہ ہے مگر مسلمان ہر جگہ اس کی نقل میں مسجد بناتے ہیں اور وہ مسجد با برکت ہو جاتی ہے۔اسی طرح گو ہمارا اصل مرکز قادیانی ہے لیکن اس