تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 117 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 117

١١٢ رہیں جس وقت بھی انہیں اطلاع دی جائے انہیں فوراً ربوہ پہنچ کر کام شروع کر دینا چاہئیے یاد رکھو ہمارا ایک ایک دن بہت قیمتی ہے اور مرکز کے قیام میں ایک دن کی تعویق بھی ہمارے سے لئے مضر ہے۔ربوہ کی زمین کی قیمتوں کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا :- اس سلسلہ میں بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے حقیقت یہ ہے کہ زمین کی فروخت کا جو پہلا اعلان کیا گیا تھا اس میں دوسشر طیں رکھی گئی تھیں (۱) ایک سو روپیہ کنال کے حساب سے آٹھ سو کنال فروخت کی بجائے گی۔(۲) ۱۵ار اکتوبر تک ایک سو روپیہ فی کنال کے حساب سے زمین دی جائے گی۔گویا اس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ دلی اگر ھار اکتو برے سے قبل ہی آٹھ سو کنال فروخت ہو گئی تو پھر مقرہ شرح پر فروخت بند کر دی جائے گی۔(ب) اگر آٹھ سوکنال زمین فوت نہ ہوئی لیکن ار اکتوبر کی تاریخ آگئی تو اس صورت میں بھی مقررہ قیمت پر زمین کی فروخت بند ہو جائے گی۔اس اعلان کے مطابق چونکہ ۶- اکتوبر کو ہی آٹھ سو کنال فروخت ہو گئے تھے۔اس لئے گوھار اکتوبر کی تاریخ بھی نہیں آئی تھی لیکن فروخت بند کر دی گئی تھی۔فرمایا : حقیقت یہ ہے کہ اگر خرچ کا قلیل سے قلیل بھی اندازہ لگایا جائے تو کوئی قصیہ پچیس تیس لاکھ روپے خرچ کئے بغیر نہیں بن سکتا۔یہ رقم ان چیزوں پر خرچ ہوتی ہے ، جو قصبہ کے سارے باشندوں کے کام آتی ہیں جیسے مثلاً سکول کالج وغیرہ۔اگر کچی عمارتوں کا اندازہ بھی لگایا جائے تو تیرہ لاکھ روپے سے کم نہ ہوگا۔اب صاف بات ہے کہ یہ رقم دو ہی طریق سے لی جا سکتی ہے (1) خریداروں سے زیادہ قیمت وصول کر کے (۲) ساری جماعت سے چندہ لے کر نہ ظاہر ہے کہ اخلاقی طور پر ہم ساری جماعت سے یہ رقم نہیں لے سکتے۔کیونکہ یہ رقم جن چیزوں پر خرچ ہوتی ہے ان سے زیادہ تر مقامی لوگوں نے فائدہ اٹھانا ہے۔اب ایک ہی صورت رہ بھاتی ہے اور وہی ہم نے اختیار کی ہے۔وہ یہ کہ زمین کی قیمت زیادہ وصول کی بجائے۔میں دوستوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ جلد سے جلد زمین اپنے لئے مخصوص کرائیں۔