تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 113
I-A 2 اس اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یوں بیان فرمایا ہے۔وَآتُوا الْبُيُونَ مِنْ ابوابھا۔ہر گھر میں میں تم داخل ہونا چاہتے ہو اس کے دروازہ سے میں داخل ہو کر جاؤ یعنی ہر وہ کام جسے تم اختیار کرنا چاہتے ہو اس کے حصول کا بو طریق ہے وہ اخت سیار کرو۔صحیح طریق اختیار کرنے کے بعد قوم کے پیش نظر کسی مقصد کا ہونا ضروری ہے۔اگر کسی قوم کا کوئی مقصد نہ ہو تو وہ کا سیاب نہیں ہو سکتی۔جس طرح دروازے میں داخل ہوئے بغیر گھر میں راضی ہونا مشکل ہے۔اسی طرح اپنے مقصد کے مقرر کئے بغیر کامیابی محال ہے۔لِكُلِّ تِجْعَةٌ هُوَ مُوَلّيها که بر وی مقتل شخص کا کوئی مقصد ہوتا ہے جسے سامنے دکھ کہ وہ پھلتا ہے۔اسی طرح ہر قوم کا ہو کسی قانون یا تنظیم کے تحت اپنے آپ کو چلاتی ہے ؟ کوئی مقصد ہونا چاہیے۔اگر بغیر مت سد کے کچھ لوگ کسی بیگہ اکٹھے ہو جائیں تو اُن میں نہ قربانی کی رُوح پیدا ہوتی ہے نہ آنا ہمت اور جوش پیدا ہو سکتا ہے نہ وہ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی ایسا اعلیٰ پر وگرام جس پر عمل کر کے دنیا میں منہ از جگہ حاصل کر سکیں پیش کر سکتے ہیں۔پس ہماری جمائت کو یہ دونوں زرین اصول کبھی نہیں بھولنے چاہئیں۔ہمارا مقصد تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرما دیا ہے کہ اسلام کو دنیا میں غالب کرنا۔پس ہمارا مقصد ہمارے سامنہ ہے۔اسے حاصل کرنا ہمارا کام ہے۔۔ایسا ء نیہ جو دلائل اور تعلیم کے لحاظ سے ہم دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں وہ تو قرآن کریم میں موجود ہے اور اعلیٰ تعلیم ہوں کی وجہ سے تمام مذہبی کتب سے افضل ہے اس میں موجود ہے۔اور ہر شخص ہو غور کرے اس کو دیکھ سکتا ہے لیکن جب تک ان دلائل کو عملی طور پر پیش نہ کیا جائے محض دلائل سے کوئی شخص قائل نہیں ہو سکتا۔لوگوں کا عام طریق ہوتا ہے کہ جب وہ دلائل سے عاجز آ جاتے ہی یا تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ بتاؤ تم نے اس تعلیم پر عمل کر کے کونسا تغیر اپنے اندر پیدا کر لیا ہے۔کو نہ ما اعلیٰ مقام حاص کر لیا ہے۔کو نسی فضیلت حاصل کر لی ہے بچنا نچہ آج دشمن اسی طریق سے اسلام پر طعنہ زن ہو رہا ہے۔جب ہم اس کے سامنے اسلام کی تعلیم پیش کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے بتاؤ اسلامی ممالک نے کونسی رواداری کی مثال پیش کی ہے اللہ اده البقره رکوع ۲۴ آیت ۱۹۰۰۔• البقرا رکوع ۱۸ آیت ۵۱۴۹