تاریخ احمدیت (جلد 12)

by Other Authors

Page 107 of 314

تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 107

10 کے متعلق مومنوں کا سب سے مقدم فرض مقرر کیا گیا ہے۔آپ لوگ بہت خوش قسمت میں کہ گذشته فسادات اور غیر معمولی حالات کے باوجود آپ کو خدا تعالٰی نے قادیان میں ٹھہرنے اور وہاں کے مقدس مقامات کو آباد رکھنے اور خدمت بجا لانے کی توفیق دے رکھی ہے۔میں یقین رکھتی ہوں کہ آپ لوگوں کی یہ خدمت خدا کے حضور مقبول ہوگی اور احمدیت کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے مخاص یاد گار رہے گی۔یں اور میں بیاہی جا کر قادیان میں آئی اور پھر خدا کی مشیت کے ماتحت مجھے ۱۹۴۷ء میں قادیان سے باہر آنا پڑا۔اب میری عمر انٹی سال سے اوپر ہے اور میں نہیں کہہ سکتی کہ خدائی تقدیم میں آئندہ کیا مقصد ہے۔مگرہ بہر حال میں اپنے خدا کی ہر تقدیر پر راضی ہوں اور یقین رکھتی ہوں کہ خواہ درمیانی امتحان کوئی صورت اختیار کرے قادیان انشاء اللہ جماعت کو ضرور واپس ملے گا مگر خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو موجودہ امتحان کو صبر اور معلوۃ کے ساتھ برداشت کر کے اعلیٰ نمونہ قائم کریں گے۔چند دن سے قادیان مجھے خاص طور پر زیادہ یاد آرہا ہے۔شاید اس میں جلسہ سالانہ کی آمد آمد کی یاد کا پر تو ہو یا آپ لوگوں کی اس دلی خواہش کا مخفی اثر ہو کہ میں آپ کے لئے ہیں موقعہ پر کوئی پیغام لکھ کر بجھواؤں۔میری سب سے بڑی تمنا یہی ہے کہ جماعت ایمان اور اخلاص اور قربانی اور گل صالح میں ترقی کرے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش اور دعا کے مطابق میری سیمانی اور روحانی اولاد کا بھی اس ترقی میں وافر حصہ ہو۔آپ لوگ اس وقت ایسے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں جو خالصتا روحانی ماحول کا رنگ رکھتا ہے۔آپ کو یہ ایام خصوصیت کے ساتھ دعاؤں اور نوافل میں گزار نے چاہئیں اور عمل صالح اور باہم اخوت و استحاد اور سلسلہ کے لئے قربانی کا وہ نمونہ قائم کرنا چاہیئے جو صحابہ کی یاد کو زندہ کرنے والا ہو۔بخدا کو سے ایسا ہی ہو۔آمین ! (دستخط) أم محمود رتن باغ لاہور - ۱۸ دسمبر ۱۹۹۵ ۱۹۵ لم ه رساله درویشان قادیان شائع کرده بزم در ویشان قادیان و میره از صفحه ۱۷ و بقیه به صفحه ۰۱۰