تاریخ احمدیت (جلد 12) — Page 106
100 پہنچتے رہتے ہیں وہ میرے لئے با عث خوشی ہی نہیں بلکہ حقیقتاً باعث فخر ہیں۔بھائیو ! آپ میں سے بعض میرے عزیز ہیں بعض دوست ہیں اور بعض بزرگ بھی ہیں۔ہاں رہی بزرگ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائی زمانہ میں حضور کی صحبت سے فیض پایا اور پھر اب تک اسی مئے عشق سے بیش از پیش سرشار چلے آتے ہیں۔خدا آپ کی صحتوں اور عمروں میں برکت عطا کرے اور میں طرح اس نے آپ کی روحوں کو بلند کیا ہے اسی طرح وہ آپ کی زندگیوں کو بھی لمبا فرمائے تاکہ یہ ظاہر کے ٹوٹے ہوئے پیوند پھر اس دنیا میں بل بھائیں جس طرح کہ وہ عالم ارواح میں اب بھی ملے ہوئے ہیں۔مگر غیب کا علم صرف بخدا کے ہاتھ میں ہے اور وہی اس بات کو جانتا ہے کہ اس دنیا میں کس کی ملاقات مقدر ہے اور کس کی نہیں۔پس اے ہمارے قادیان کے بھائیو! میں اور ہمارے پاکستانی بھائی آپ سب کو خدا کے سپرد کرتے ہیں وہی خدا جس کی رحمت اور شفقت کے پروں کے نیچے ہم سب کا مشترک کیا ہے۔واخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد ان قادیان حال رتن باغ لامپور ۲۰ دسمبر ۱۹۴۸ و سامی ۲۰ حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا نے اس موقعہ پر حسب ذیل پیغام حضرت ام المومنین کا پیغام بھجوایا۔"السلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ مجھے آپ کی طرف سے درخواست پہنچی ہے کہ میں قادیان کے جلسہ سالانہ کے موقعہ پر آپ کو کوئی پیغام بھیجوں۔سو میرا پیغام یہی ہے کہ میں آپ سب کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھتی ہوں اور یقین رکھتی ہوں کہ آپ بھی مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھتے ہوں گے کہ ایک دوسرے مکتوبات اصحاب احمد علیہ السلام میلاد اول " مرتبہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اسے قادیان (بھارت) بار اول مطبوعہ اگست ۱۹۵۳ از صفحه ۸۳ تا ۲۸۸