تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 72 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 72

۷۲ حکومت قائم تھی اور مین کے ذریعہ مسلمانوں کی ہسپانوی سلطنت کے خاتمہ کے بعد بھی قریباً دو صدیوں تک پوری شان و شوکت سے اسلام کا جھنڈا لہراتا رہا تھا جنقلیہ کے اسلامی دور میں بکثرت اصحاب فضل و کمال پیدا ہوئے جو اپنے علم وفن میں ہسپانوی علماء کے ہم پلہ، نابغتہ الدہر اور یکتائے روزگار تھے اور یہ جزیرہ ہرقسم کی اسلامی یونیورسٹیوں کا مرکز تھا لیکن افسوس جو دردناک حشر - پانوی مسلمانوں کا ہوا وہی اس خطہ کے برگشتہ نصیب مسلمانوں کا ہوا۔میں عیسائی بادشاہ راجرا قول نے منقلیہ کے آخری مسلمان تاجدار ابن البصباغ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور مسلمان عیسائی حکومت کی رعایا قرار پائے۔میں فریڈرک نے تمام معلوی مسلمانوں کو اٹلی کے علاقہ (بوجارہ) نوسیرا میں جلا وطن کر دیا مگر یہاں بھی عیسائی بادشاہوں نے ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا اور یہ غریب اور نہتے مسلمان ناقابل برداشت تکالیف برداشت کرتے کرتے بالآخر جبراً عیسائی بنائے گئے بیت میں یہ پورا علاقہ اسلام کے نام لیواؤں سے خالی ہو گیا۔سے ۶۱۲۴۹-۵۰ حضرت مصلح موعود نے جب اندکس اور مصفیہ میں مسلمانوں کے حضرت مصلح موعود کا عزم بالجزم ترعب و جو یہ اور پھر ان کے اخراج کی درد ناک تاریخ پڑھی تو آپ نے مصمم ارادہ کیا کہ ان علاقوں میں ضرور احمدی مبلغین بھجوائیں گے۔چنانچہ فرماتے ہیں :۔اگر کوئی مسلمان مُردہ دل ہو تو اور بات ہے ورنہ ایک غیرت رکھنے والے مسلمان کے قول پر ان حالات کا مطالعہ کرنے کے بعد جو زخم لگتے ہیں ان کے اند سال کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی سوائے اس کے کہ وہ اپنا خون دل پتیار ہے۔۔جب میں نے یہ حالات تاریخوں میں پڑھے تو میں نے عزم کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی تو میں ان علاقوں میں احمدیت کی اشاعت کے لئے اپنے مبلغین بھیجواؤں گا جو اسلام کو دوبارہ ان علاقوں میں غالب کریں اور اسلام کا جھنڈا دوبارہ اس ملک میں گاڑ دیں " سے حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کی اس دیرینہ خواہش مبلغین اسلام کا سسلی میں ورود کی تکمیل کے لئے ماسٹر محمد ابراہیم صاحب خلیل اور مولوی ے تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ منقلبہ" از جناب مفتی انتظام اللہ صاحب شہابی اکبر آبادی - ناشر ندوۃ المصنفین اردو بازار جامع مسجد دہلی + له الفضل ١٧ وفا / جولائی ۳ صدا کالم ہے ۱۷ وفا/ کی