تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 61 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 61

บ یہاں کہیں مختصراً صرف اس قدر بتاتا ہے کہ حضور انور پہلے دو روز میڈرڈ (ماتریدی میں قیام فرما رہے بعد ازاں دوسرے تاریخی مقامات قرطبہ ، غرناطہ اور طلیطلہ کی طرف تشریف لے گئے۔چنانچه حضور مع قافله ۲۷ ہجرت مٹی کی صبح کو میڈرڈ سے روانہ ہو کر شام قرطبہ میں ورود سعود کے و تقریبہ نے نور کا ایمیلیا ، ہوٹل میں تھا منظر وقفہ کے بعد حضور شام کو مسجد قرطبہ میں تشریف لے گئے۔اس موقع پر حضور کے پر انوار اور خدا نما چہرہ کی زیر دوست مقناطیسی اور روحانی کشش کے بعض عجیب اثرات دیکھنے میں آئے۔ایک تو یہ کہ جب حضور پہنچے تو قرطبہ کالج کے ایک پروفیسر پہلے ہی موجود تھے جو حضور کے رخ مبارک سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے از خو زخود مسجد دکھانے کے لئے اپنی خدمات پیش کر دیں۔دوسرے یہ کہ محراب کے گھر دلو ہے کا نگلہ لگا ہوا تھا اور کسی کو محراب کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی مگر مسجد کے عیسائی محافظ نے بغیر کسی درخواست کے بلاتا تل حضور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ حضور جنگلہ کے اند رمحراب میں تشریف لے چلیں اور ساتھ ہی آہنی جنگلے کا دروازہ بھی کھول دیا۔محراب میں داخلے کا نظارہ نہایت دردناک تھا بحضور تو خستم دعا بنے ہی ہوئے تھے قافلہ کے باقی تمام افراد پر بھی رقت طاری تھی۔حضور نے محراب میں کھڑے ہو کر نہایت الحاج وزارتی سے دُعا کی۔حضور نے قرطبہ میں دعاؤں سے معمور ایک شب گزارنے کے بعد اگلے روز علی اصیچ غرناطہ میں آمدہ مسجد قرطبہ اور قرطبہ کے شور محل القصر کو دوبارہ ملاحظہ فرمایا اور پھر رات روانہ ہوئے اور شام کو مو ناطہ پہنچے حضور کا قیام قصر الحمراء کے ایک مقصہ (یعنی غرناطہ میں ہوٹل میں تھا۔اگلے روز حضور نے الحمراء کا پرشکوہ محل دیکھا تے شوکت اسلام کیلئے حضور کی پرسوز گائیں نور اور نے دین سے پانی کے لئے روانی کے وقت سے ہی اپنے پیارے رب کے حضور پرسوز اور ان کی مقبولیت پر آسمانی بشارت دعاؤں کا جو خاص سنا شروع کر رکھا تھاوہ فخرنا سلسلہ میں نقطۂ عروج تک پہنچ گیا۔اور غرناطہ ہی میں رب جلیل نے اپنے پاک الہام سے ان کی قبولیت کی + CORDOVA ' ه OGRANADA + سے الفصل 1 بجرت مئی ها 71941 +