تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 54
کا پولیس والوں نے بھی دخل اندازی کی۔لوگ جب اسلام کے متعلق شوق اور دلچسپی کا اظہار کرتے اور کتب خریدتے تو خاکسار اُن سے اُن کا پتہ مانگتا تو ان میں سے بعض کی حالت قابل رحم ہوتی پولیس کے ڈر سے ہاتھ کانپ رہے ہوتے تھے اور بعض تو جلدی سے بھاگ جانے کی کرتے ہے اے مرعوبیت اقتدار اور تلاش حق کی اس کشاکش میں احمدی ستقع کی تبلیغی مساعی محدود پیمانہ پر خلافت ثمانیہ کے اختتام تک نہایت باقاعدگی سے برابر جاری رہیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔اسلامی لٹریچر کی اشاعت : سپین کے طول و عرض میں مندرجہ ذیل اسلامی طریچر کی اشاعت کی گئی۔۱ - انگریزی ترجمہ قرآن مجید ، ۲۔اسلام کا اقتصادی نظام، ۳- لائف آف محمد ۲ کمیونزم اینڈ ڈیمو کریسی هاکشتی نوح ، 4- احمدیہ موومنٹ ، - نظام نو ، شیر کشمیر میں: 1- میشیح کہاں فوت ہوئے ؟۔میں اسلام کو کیوں مانتا ہوں ، ۱۱۔اسلامی اصول کی فلاسفی، ۱۲- رسالہ ریویو آف ریلیجیز اس سلسلہ میں جن لوگوں کوشن کی طرف سے لڑیچ دیا گیا ان میں مندرجہ ذیل شخصیت میں خاص طور پر قابل ذکر ہیں سپین کے وائس پریذیڈنٹ، ان کے پرائیویٹ سیکریٹری اور ملٹری ڈاکٹر پانچ لیفٹینٹ کرنل فوجی افسر صد ر امریکہ جانسن ، سپین کے متعد د سیول گورنر سول گورنر آن DADANO 03 اور شہر ALMERIDA کے میٹر جائنٹ سیکرٹری وزارت رفاہ عام ، جائنٹ سیکرٹری انفاریش نشری چیف آف پروٹوکل وزارت خارجہ، وائس پریذیڈنٹ وون (D۔AS USTIN) انفارمیشن منسٹر D۔MANUEL FRAGA ) پروفیسر ڈاکٹر LOPEZ DEGBOZ ، پرونیر۔۔۔JUANDENCYTS ، مشہور وکیل JUAN BRANO ، وزیر اعظم اطالیہ ، وزیر خارجہ املی ، چھلی کے قونصل ( S۔D۔CARLOS SANDER) ، عرب ، اطالیہ اور پرتگال کے قونصل خانوں کے سر بر آوردہ اصحاب، میلگا (MALGA ) شہر کے آرچ بشپ ، یونیورسٹی کے لاء پروفیسر + i له الفضل ۳ ارونا ر جولائی ۱۳۳۷ ص۳ کے سپین میں قریباً ۵۲ صوبے ہیں۔اوائل تک ستائیں گورنروں تک اسلامی اصول کی فلاسفی" " اور اسلام کا اقتصادی نظام بھجوایا جا چکا تھا۔(الفضل ۲ ہجرت مئی ص هند