تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 53 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 53

۵۳ کیا گیا ہے۔سپین کی موجودہ حکومت عالم اسلام کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات پیدا کرنے کی خواہاں ہے لیکن اگر اس نے ایسا رویہ اختیار کیا جو عالم اسلام کو تکلیف دینے والا ہو تو اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوگا کہ ٹین ایک نمائشی خواہش ہے۔حکومت کا یہ حکم پرانے زمانہ کے ایسا بیلا اور فرڈی نینڈ کے بغض و تعصب سے کم نہیں ہے حکومت فرانکو نے مذہبی آزادی کو ختم کرنے لئے جو حکم جاری کیا ہے اس پر حکومت پاکستان کو بیدار ہونا چاہیے اور ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر سیاسی گفت و شنید سے اس ہم معاملہ کو طے کرے (ترجمہ) نے ۲۱۹۵۶ مشرقی پاکستان کے ایک اور موقر جریدہ بلت (۲۱ جون تشار) نے لکھا :۔ایک خبر سے یہ معلوم ہوا ہے کہ حکومت سپین نے اپنے ملک سے مبلغ اسلام کو نکل جانے کا حکم دیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہ حکم پاکستانی سفارت خانہ کے ذریعہ سے دیا گیا ہے۔یہ امر انتہائی تکلیف دہ ہے۔مذہبی مبلغ کی آزادی کا ہر ملک میں ہونا نہایت ضروری ہے۔پاکستان میں عیسائی مبلغین عیسائیت کی تبلیغ نہایت آزادی کے ساتھ بلا روک لوک کر رہے ہیں ہمیں یہ امید ہے کہ ہماری حکومت اس حکم کے ازالہ کے لئے مناسب کارروائی فرمائے گی ! (ترجمہ) سے تبلیغ اسلام پر پابندی کے بد سے اب اگر چہ موت کی رات کے لیے اسلام کیا ہیں قانونا بند کر دی گئیں اورمسلم میشن پر پولیس کی خفیہ نگرانی اور خلافت ثانیہ کے اختتام تک بھی سخت ہوگئی تھی جس نے عوامی ذہین پر ایک حبیبت کی طاری کر دی تا ہم خدا کا یہ فضیل خاص ہوا کہ ملک کے ۱۳۳۵ ۶۱۹۵۶ چھوٹے اور بڑے، پہلے اور اونچے علقوں کی اسلام سے دلچسپی میں کوئی کمی نہیں آئی۔لوگوں کے اس یلے میلے قلبی رجحان کی ایک ابتدائی ملک مبلغ اسلام کی ایک ماہانہ رپورٹ ربابت ماہ احسان/ کے مندرجہ ذیل چند فقروں سے خوب نمایاں ہوتی ہے۔فرماتے ہیں :۔روزانہ دو یا چار وردی والے پولیس کے آدمی میرے پاس آجاتے ہیں۔دو دفعہ خفیہ جون 81909 المرحث ه اور وقار هو الفضل درو فار جولائی مث : کے الفضل و وفا جولائی هارم به 81904 ۶۱۹۵۶