تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page vi
بسم الله الرحمن الرحيمة محمد وَنَصَلَّى عَلَى رَسُوله الكريمة تاریخ احمدیت کی بارھویں جلد د رقم فرموده حفر چوهدری محمد ظفر اللہ خانصاحب صدر عالمی عدالت احسان ادارۃ المصنفین کی طرف سے تاریخ احمدیت کی بارھویں جلد طبع ہو کر احباب جماعت کے ہاتھوں میں پہنچ رہی ہے۔اس کے بیشتر حصہ کو میں نے دیکھا ہے۔اس میں مغلیہ، فرانس ، سپین، سوئٹرز لینڈ اور ہالینڈ میں اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کے نئے مشنوں کے قیام کا ذکر ہے اور اس بات کا مفصل تذکرہ کیا گیا ہے کہ کی حالات میں میشن قائم ہوئے اور احمدی مبشرین نے کیس کیس رنگ میں اشاعت اسلام کا فریہ ادا کرتے ہیں مساعی جمیلہ کیں ار ان مسائی کے نتیجہ میں اب تک کس قدر سعید رو میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوئی ہیں۔۱۹۴۷ میں ہجرت کے بعد حضرت مصلح موعود خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ جب لاهور تشریف فرما تھے تو آپ نے پاکستان کے بڑے بڑے شہروں پشاور، راولپنڈی، کوئٹہ اور کراچی میں انتظام پاکستان کے متعلق ٹیچر دیے تھے۔ان میکروں میں حضور نے اس بات کو مفصل طور پر بیان فرمایا کہ پاکستان ایک مضبوط متحد اور تحکم مملکت کیسے بن سکتی ہے۔ان لیکچروں کی تفصیل بھی اس جلد میں بیان کر دی گئی ہے۔اگر آج بھی اہالیان پاکستان ان امور کو مشعل راہ بنائیں تو پاکستان ایک مضبوط اور قابل احترام مملکت بن سکتا ہے۔اسرائیلی حکومت کے قیام پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مسلمانان عالم کو متحد کرنے کی غرض سے ایک بین الاقوامی تحریک اُٹھائی تھی جس پر شرق بوعلی کے مسلم پریس نے بالاتفاق فراری اسکیمیں اور کیا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ اس فتنہ پر کاری ضرب لگانے کے لئے حضور رضی اللہ عنہ کی تحریک کو اپنائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔اس جد وجہد کا بھی اس جلد میں ذکر ہے۔کتاب کے آخر میں پاکستان میں جماعت احمدیہ کے عالمی مرکز ربوہ کے قیام