تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 36
۳۶ مختصر یہ کہ حضور کی اس بلند پای تصنیف کی وجہ سے بفضلہ تعالی تبلیغ اسلام کے کام میں بہت وحت پیدا ہو گئی اور سنجیدہ طبقہ میں اسلامی تعلیمات کی برتری کے احساس کو پیدا کرنے میں بھاری بعد دہلی لیہ حضرت امیر المومنین المصلح الموعود نے سپین شن حضرت مصلح موعود کا اظہار خوشنودی کے انچار مستی مولوی کرمانی صاحب حفر کی تبلیغی کوششوں پر (۲۶ میاہ نبوت/ نومبر کے خطبہ جمعہ میں اظہایہ خوشنودی کرتے ہوئے ۱۹۴۸ فرمایا :- دہ پانیہ کے مبلغ نے بہت اچھا نمونہ دکھایا ہے۔جب سلسلہ کی مشکلات بڑھیں اور ان نقصانات کے بعد جو مشرقی پنجاب میں ہوئے ہم مجبور ہو گئے کہ وہاں سے شن بٹائیں اور اسے بتایا گیا تو اس نے لکھا کہ مجھے واپس نہ بلایا جائے بلکہ مجھے اجازت دی بجائے کہ میں اپنے گزارہ سے یہاں کام کروں۔چنانچہ اس نے پھیری کا کام کر کے گذار کیا اور نہ صرف گذارہ کیا بلکہ اس نے ایک کافی رقم جمع کر کے میرے لیکچر اسلام کا اقتصادی نظام کا ترجمہ کر کے شائع کیا۔دو اڑھائی ہزار روپیہ کے قریب اس پر خرچ آیا اور اب وہ اس فکر میں ہے کہ وہ اس کام کو وسیع کرے " سے حضرت مصلح موعود کا مکتوب گرامی | ایک خاتون نے جو اسلام کا اقتصادی نظام سے باست متاثر تھی ، حضرت سیدنا المصلح الموعود خاتون بارسلونہ کی ایک ہسپانوی خاتون بی جواب میں کی خدمت میں ہسپانوی زبان میں ایک خط لکھا جس کے جواب میں حضور نے تحریر فرمایا :- ماہ ایک عرصہ سے سی آئی ڈی نے تبلیغ اسلام کی نگرانی ترک کر دی تھی مگر کتا رہے اسلام کا اقتصادی نظام کے منظر عام پر آنے کے بعد اس کا سلسلہ بارہ شروع ہو گیا۔چنانچہ ایک بار خفیہ ہوا ایس کا ایک آدمی کیتھولک چوپ کی یہ پورٹوں کی بناز پر آپ کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ کیا تم نے کوئی کتاب شائع کیا ہے یا اس کے بعد مفسر شپ کا اجازت نامہ دیکھنے کا مطالبہ کیا آپ نے اسے نہایت و مناحت سے بتایا کہ شعیب بندہ اسلام کا مبلغ ہے تو میرا کام اسلام کی تبلیغ کرتا ہے آپ لوگوں کو اس پر تعجب نہیں ہونا چاہیئے۔بندہ ہرگز ہر گز ملک کے سیاسی معاملات میں دخل نہیں دیتا۔میرا اسکین ۶۱۹۵۲ میں پانچ سالہ قیام اس بات پر شاہد ہے یے دا افضل اور صلح / جنوری ها صحت کالم ملت ) : الفضل در فتح و سمبر به من به له