تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 460
(جواب) عزیزم ڈاکٹر غفور الحق خان صاحب الحکم اللہ تعالیٰ السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔جزاکم اللہ احسن الجزاء - تحفہ قبول کرنے کو رسول کریم نے سفتہ انبیاء قرالہ دیا ہے مگر غیرمعین بوجھ ڈالنا ٹھیک نہیں۔یوں آپ کوئی جنس یہ طور تحفہ بھجوائیں تو اسے لینے میں ہمیں عذر نہ ہوگا مگر میتی عرصہ کے لئے یہ مان لینا کہ آپ جنس بھیجوایا کریں اس میں تحفہ کی شکل سوالی کی بدل جاتی ہے۔اس طرح ہمارے دل پر بوجھ رہے گا کہ جلدی چلو ان کو تکلیف ہو رہی ہو گی۔پس آپ جب اور میں قدر چاہیں کوئی جنس یا اجناس تحفہ کے طور پر خوشی سے بھیجوا سکتے ہیں اس سے آپ کی اور ہماری دونوں کی بشاشت قائم رہے گی مگر آپ کی پیشیش کر وہ صورت میں ہمارے دل پر بوجھ رہے گا کہ ہم بوجھ بن رہے ہیں۔والسلام خاکسار مرزامحمود احمد بسم الله الرّحمن الرّحيمي : محمدُهُ وَنَصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكريم سیدنا و مطاعنا اید یکم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز السلام عليكم ورحمة الله وبركاته حضور کا ارشاد بابت میری درخواست مهمان نوازی موصول ہونے پر از حد شرمسار ہوں کہ حضور کو اس سے سوالی کا رنگ پیدا ہونے کا احتمال ہو ا جس کے واسطے معافی کا خواستگار ہوں۔چونکہ حضور نے اس عاجزہ کی مہمان نوازی کو غیر معین عرصہ کے لئے قبول فرمانا پسند نہیں فرمایا اس لئے عاجزہ کی درخواست ہے کہ دوباہ کے لئے حضور اس عاجز کی مہمان نوازی قبول فرمائیں اور اس عاجز کو کل صبح سے اشیاء خوردنی سپلائی کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے۔والسلام حضور کا ادنی ترین غلام عاجز غفور الحق خان عفی عنه ۱۳ فریش تک ریسم يس عليكم درجة الله وبرة مربی تیہ میں اپنی یا بے شمار آیا کہ یہ سنگا کاری است شماطه سوم سردست بھی آسوشین وہ ہی طرح کرکسی مری کی یہ بھی