تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 458
For کئے ، ان ریمارکس سے سامعین اور سنجیدہ طبقہ پر اثر کا اندازہ ہو سکتا ہے۔جلسہ میں مرد ان کے معزز وکلاء صاحبان بھی موجود تھے مگل سامعین کی تعداد تین چائیسو کے لگ بھگ تھی۔جلسہ کے بعد حضور نے نماز مغرب پڑھائی تھی۔دوسرے دن صبح حضور مجد احمد یہ بکٹ گنج تشریف لائے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔اس کے بعد حضور بمعہ اپنے قافلہ تخت بھائی شوگر ملنہ دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے۔بعد ازاں براستہ رسالپور نوشہرہ تشریف لائے۔رسالپور میں چوہدری ظفر صاحب (جو اُس وقت ایر فورس میں شاید پائلٹ آفیسر تھے) کے ہاں کھانا تناول فرمایا اور ایک مختصر تقریر بھی فرمائی۔رسالپور کے ساتھ پیر مبارک نامی جگہ کو دیکھا حضور دیکھنا یہ چاہتے تھے کہ نئے مرکز کے لئے خواب میں دیکھایا جانے والا مقام تو نہیں لیکن اس کا نقشه خواب سے مختلف پا کر اسے چھوڑ دیا گیا۔نوشہرہ میں ایک غریب لیکن نہایت مخلص دوست نے چائے پیش کرنے کی درخواست کی جو منظور کی گئی۔یہاں پر بھی حضور نے تقریر فرمائی جو انا اعطَيْنَاكَ الگو شر کی قرآنی آیت پرتھی۔یہ تقریر مرحوم مرزا غلام حیدد صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ نوشہرہ کی زیر صدارت ہوئی تھی۔حضور کی ہمرکابی میں قاضی محمد یوسف صاحب پراونشل امیر صوبہ سرحد اور صاحبزادہ عبد اللطیف صار لویی) بھی تھے۔(ملخصاً) د آدم شمال امیر جماعت احمدیہ مردان) حضر مصلح موعودہ کے مبارک کلمات ڈاکٹر غفور الحق صاحب کویسٹ کی عروضنا کے جواب میں ار احسان / جون تا اخاء / اکتوبر ه/۱۳۸۲ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم سیدنا و مطاعنا اید کم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز السلام عليكم ورحمة الله و برکانه گزارش ہے کہ اس عاجز کی ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ حضور کوئٹہ تشریف لائیں اور خدا تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس عاجز کو سخدمت کی توفیق دے جس کے واسطے درخواست دعا ہے۔نیز عرض ہے کہ ہمارے خاندان کی بڑی خواہش ہے کہ حضور از راہ عنایت ہماری طرف سے کوئٹہ میں قیام کے تمام عرصہ کے لئے مہمان نوازی قبول فرمائیں اور حضور اور حضور کے تمام خاندان کے لیے اس عاجز کو اشیاء خوردنی سپلائی کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے۔والسلام حضور کا ادنی ترین غلام