تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 455
بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم * وعلى عبده المسيح الموعود یزه مکرمه بگیم کریم الی صاحب ظفر السلام علیکم ورحمه الله وبركاته آپ کی شادی ظاہری حالات کے لحاظ سے وفاؤں اور برکات کے ساتھ ہوئی ہے مگر ابھی تک یہ صرف ایک جسم ہے اور اس کے اندر حقیقت کی روح ڈالنا یا تو ہمارے خدا کے ہاتھ میں ہے جو تمام فضلوں اور رحمتوں کا ستر شیعہ ہے اور یا وہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ اپنے عمل سے خدائی نصرت و رحمت کی جاذب نہیں۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپکی زندگی کو فضلوں اور رحمتوں کا مورد بنائے اور حسنات دارین سے نوازے۔آمین۔سپین کا ملک جہاں آپ اپنے شوہر عزیز کرم الہی صاحب ظفر کے ساتھ جا رہی ہیں اسلام کا کھویا ہوا ورث ہے جہاں اسلام کے پودے نے سات آٹھ سو سال اپنے برگ و بار کی شاندار بہار دکھائی ہے مگر آپ اس پر خزاں کا دور دورہ ہے آپ اسے اپنی دردمندانہ کوششوں اور دعاؤں کے ساتھ پھر پھولوں اور پھلوں سے شاداب اور آراستہ کرین اور ثابت کر دیں کہ ہمارے آقا صلے اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانی عالمگیر اور ہمہ گیر بہار کا پیغام لے کو آئی ہے۔سپین کا دوبارہ اسلام سے مشرف ہونا اسلام کا وہ روحانی انتقام ہوگا جس کے لئے اندلسی بزرگوں کی رہیں پیکار رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے اور آپ کے سرتاج کے ساتھ ہو اور دین و دنیا میں ترقی عطا فرمائے۔آمین۔فقط نما کسار مرزا بشیر احمد ربوه ۲۵۳ بیان متعلقہ سفر سیالکوٹ حضرت مسیح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لیکچرا استحکام پاکستان کے سلسلہ میں موتی محل سینما میں بصدارت خان بہادر خواجہ برکت علی صاحب ریٹائر ڈ پوسٹ ماسٹر منزل سیالکوٹ رات ۸ بجے کے قریب شروع ہوا۔یہ سینما سرائے مہا راجہ جموں و کشمیر کے ساتھ ہی واقع ہے جس میں ہر نومبر کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لیکچر سیالکوٹ ا بصدارت حضرت مولوی نور دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ) حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھ کر سنایا تھا۔لیکچر کے سننے کے لئے شہر سیالکوٹ میں ایک عام منادی کرائی گئی تھی۔ہماری بیرونی جماعتوں کے لوگ بھی کثرت سے تشریف لائے ہوئے تھے۔تقریر کے وقت ہال سامعین سے بھرا ہوا تھا اور حاضری ہمارے اندازہ سے کئی گنا زیاد تھی۔جلسہ نہایت پر امن ماحول میں ہوا اور نہایت کامیاب رہا۔