تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 449
قرار دیا گیا۔ربوہ اور اس کی وجہ تسمیہ کی نسبت حضرت امیر امین اصلی امور نے اس موقع پر یہ بھی المومنین الموعود اعلان فرمایا کہ نئے مرکز کا نام ربوہ (RABWAA ) تجویز حضرت مصلح موعود کا اعلان کیا گیا ہے میں کے معنے بلند مقام یا پہاڑی مقام کے امین یہ نام اس نیک فال کے طور پر تجویز کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ اس مرکز کو حق و صداقت اور روحانیت کی بلندیوں تک پہنچنے کا ذریعہ بنائے اور وہ خدائی گور کا ایک ایسا بلند مینار ثابت ہو جسے دیکھ کر لوگ اپنے خدا کی طرف راہ پائیں۔اس کے علاوہ ظاہری لحاظ سے بھی یہ جگہ ایک ربوہ کا حکم رکھتی ہے کیونکہ وہ اردگرد کے علاقہ سے اونچی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بعض چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں بھی ہیں۔گویا ایک پہلومیں جانا کیا دریا ہے جو پانی یعنی ذریعہ حیات کا منظر پیش کرتا ہے اور دوسرے پہلو میں بعض پہاڑ یار ہیں جو بلندی کی علامت کی علمبردار ہیں۔اے قربانی اور بیعت کے بعد حضور نے تھوڑے سے وقفہ سے اسی مقام پر جہاں شامیانے نماز عصر کے نیچے نماز ظہرادا کی گئی تھی عصر کی نماز بھی پڑھائی جس میں علاوہ چھ سو مردوں کے بعض مستورات بھی پردہ کے پیچھے نماز میں شریک ہوئیں۔تنازع کے بد اور مسلمو نے یوں احمدیوں کے زیرانتظام حضرت مصلح موعود کی واپسی دعوت طعام میں شرکت فرمائی اور پھر چار بچ کر چالیس منٹ پر واپس لاہور کی طرف روانہ ہو گئے یہ اس طرح نئے مرکز احمد سمیت کی افتتاحی تقریب جو خدا کی رحمتوں اور برکتوں کا ایک عظیم نشان تھی بخیرو خوبی اختتام کو پہنچی فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى اِحْسَانِهِ ؟ الفضل ٢٢ تبوك استمبر ٢٣ من به له ايضاً۔