تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 448
مضمون میں بھی لکھا، سلسلہ کی تاریخ میں ایک خاص یادگاری موقعہ تھا جس میں دو قسم کے بظاہر متضاد یکن حقیقتاً ایک ہی منبع سے تعلق رکھنے والے جذبات کا ہجوم تھا۔ایک طرف نئے مرکز کے قیام کی خوشی تھی کہ خدا ہمیں اس کے ذریعہ سے پھر مرکز تیت کا ماحول عطا کرے گا اور ہم ایک جگہ اکٹھے ہو کر اپنی تنظیم کے با حول میں زندگی گزارسکیں گے اور دوسری طرف اس وقت قادیان کی یاد بھی اپنے تلخ ترین احساسات کے ساتھ دلوں میں جوش مار رہی تھی اور نئے مرکز کی خوشی کے ساتھ ساتھ ہر زبان اس ذکر کے ساتھ تازہ او ہر آنکھ اس دعا کے ساتھ پر نم تھی کہ خدا ہمیں جلد تر اپنے دائمی اور عالمگیر مرکز میں واپس لے جائے پالے ادعا کے بعد حضور نے فرمایا کہ اب اس رقبہ کے چاروں کونوں میں قربانیاں کی جائیں رقیہ کی پانچ بکروں کی قربانی گی اور ایک قربانی اس رقیہ کے وسط میں کی جائے گی۔یہ قربانیاں اس علامت کے طور پر ہوں گی کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنے بیٹے کی قربانی کے لئے تیار ہو گئے تھے اور خدا تعالیٰ نے اُن کی قربانی کو قبول فرما کر بکرے کی قربانی کا حکم دیا تھا اسی طرح ہم بھی اسی زمین کے چاروں گوشوں پر اور ایک اس زمین کے سنٹر میں اس نیت اور ارادہ کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور قربانیاں پیش کرتے ہیں کہ خدا تعالٰی ہمیں اور ہماری اولادوں کو ہمیشہ اس راہ میں قربان ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین کے اس کے بعد حضرت مصلح موعود اس رقبہ کے وسط میں تشریف لے گئے اور مسنون دعاؤں کے ساتھ ایک بکرا اپنے دست مبارک سے ذبح کیا۔بعدہ چاروں کونوں پر قربانیاں کی گئیں جو مندرجہ ذیل اصحاب نے کیں :- ۱- حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب دارد۔۲- حضرت مولوی محمد عبد الله صاحب بد تا نوی چوہدری برکت علی خان صاحب وکیل المعمال تحریک جدید ۴- مولوی محمد صدیق صاحب مولوی فاضل - قربانیوں کے بعد ایک ترک نوجوان محمد افضل صاحب نے حضرت امیر الونی نی نئے مرکز کا پہلا پھیل کے مبارک ہاتھ پر بیعت کی اور یہ خوش قسمت نوجوان نے مرکز کا پہلا اپل مرکز ے نماز عصر سے قبل تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ اس موقعہ پر ایک موٹر لاری پانچ کاریں اور جو ہیں تانگے اور یہیں سائیکل موجود تھے (الفضل ۲۲ تبوک استمبر هم من له الفضل جلسہ سالانہ نمبر دسمبر ۱۹۶۴ء حث : به