تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 412
۴۰۹ محفوظ ہے بشرطیکہ قرآن کریم نے ہمارے لئے کامیابی کے جو ذرائع مقرر فرمائے ہیں ہم ان پر عمل کریں۔حضور نے ان ذرائع کا ذکر کرتے ہوئے متعدد اہم تجاویز پیش فرمائیں جن میں سے بعض یہ ہیں (۱) جب اسلامی ممالک سے مقالہ پڑنے پر یور آپ خود ان کی ایک بعدا گانہ حیثیت قرار دے دیتا ہے تو کیوں نہ اسلامی ممالک پیچ چے آپس میں اس قسم کا اتحاد پیدا کر کے صحیح معنوں میں ایک عالم اسلام قائم کرلیں جس کا ہر ایک رکن اپنے ملک کی قومیت کے علاوہ اپنے آپ کو ایک بڑی قومیت یعنی عالیم اسلامی کا رکن قرار دے۔(۳) اسلامی ممالک کو باہمی رقابتیں دُور کر کے ایک دوسرے کی خاطر قربانی کرنے کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔(۳) اسلامی ممالک کے باشندوں کو ایک دوسرے کے ملک میں بکثرت آنا جانا چاہئیے۔اس سلسلے میں نوجوانوں کو سوسائٹیاں قائم کر کے اجتماعی طور پر کوشش کرنی چاہئیے۔(۴) اسلامی ممالک کو ایک دوسرے سے بکثرت تجارتی تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔(۵) جن علاقوں کے مسلمان نسبتاً زیادہ پسماندہ ہیں مثلاً مغربی اور مشرقی افریقہ وغیرہ ہمیں امدادی انجمنیں قائم کر کے ان کی مدد کرنی چاہیئے۔(4) قرآن کریم نے اسلام کی ترقی کا سب سے بڑاگر تبلیغ اسلام بیان فرمایا ہے ہمیں اس کی طرف توجہ دینی چاہیئے۔آخر میں صدر محترم نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا میں احمدیہ انٹر کالیمبیٹ ایسوسی ایشن کا شکر گزار ہوں کہ جس نے اس فاضلانہ تقریر کے سنتے کا ہمیں موقع بہم پہنچایا۔جناب مرزا صاحب نے تھوڑے سے وقت میں بہت وسیع مضمون بیان فرمایا اور اس کے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔آپ نے جو تعمیر می تجاویز بیان فرمائی ہیں وہ نہایت ہی قابل قدر ہیں ہمیں ان پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔لے له الفضل لهم افتح و دسمبر ۳۲ ص : ۶۱۹۴۸