تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 395
۳۹۲ عَلَى آمريكا وروسيا وَحْدَهُمَا لِمُنَا صَرَتِهِمَا الشَّهْيُونِيَّة " فلسطین اور کشمیر میں بنو اسرائیل آباد ہیں (ترجمہ) ہمیں جناب مرزا محمود احمد امام جماعت قادیانیہ کے خطاب کا نسخہ موصول ہوا ہے جو کہ انہوں نے فلسطین میں نام نہاد صیہونی حکومت کے قیام کے سلسلہ میں دیا ہے آپ اس خطبہ میں فرماتے ہیں یہ عجیب بات ہے کہ ایک ہی وقت میں فلسطین اور کشمیر کے جھگڑے شروع ہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ کشمیر اور فلسطین ایک ہی قوم سے آباد ہیں اور یہ عجیب تر بات ہے کہ اس قوم کا ایک حقہ مسلمان ہو کہ آج کشمیر میں مسلمانوں کی ہمدردی کھینچ رہا ہے اور دوسرا حصہ فلسطین میں مسلمانوں کے ساتھ زندگی اور موت کی تنگ میں محر لے رہا ہے۔آدھی قوم اسلام کے لئے قربانیاں پیش کر رہی ہے اور آدھی قوم اسلام کو مٹانے کے لئے قربانیاں پیش کر رہی ہے۔کشمیر کی جنگ میں کا شر یعنی کشمیر کا نام سنتے ہیں آتا ہے اور فلسطین کی جنگ یں بھی کا شر شر کا ذکر بار بار آرہا ہے۔اس کا متر کےنام پرکشمیر کا نام اشرکا گیا تھا جواب برا کر کشمیر ہوگا ہے یا یہ کہ یہ کا شیر ہے یعنی سیر یا شام کی طرح " یہ لیکچر بغداد کے مطبعہ الفیض میں طبع ہوا ہے اور اس میں (فاضل ، لیکچرار نے صیہونیت کی پشت پناہی کے باعث امریکہ اور روس دونوں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔(الف باء دمشق) اخبار صوت الاحرار نے اس انقلاب انگیز مضمون پر حسب ذیل تبصرہ شائع کیا :- الكُفْرُ مِلَّة وَاحِدَة بهَذَا الْعُنْوَانِ اَلْقَى السَّيِّدُ مِرُنَا مَحْمُودُ أَحْمَدُ اِمَامُ الْجَمَاعَةِ الْأَحْمَدِيَّةِ القاديانية في لاهور ( باكستان) خُطْبَةً مُطَوَّلَةً حَمَلَ فِيْهَا بِشِدَّةٍ وَعَنْفٍ على الهيُونِيَةِ الأَيْمَةِ الْمُجْرِمَةِ - وَلَمْ يُخْفِ اسْتِغْرَابُهُ الْعَمِيقُ مِنْ اجتماع المُتَنَا قِضَاتِ وَاتَّحَادِ الْأَعْدَاء فِي سَبِيلِ اِنْكَارِ عُرُوبَةٍ فَلَسْطِيْن وَالْإِعْتَرَانِ بِكِيَانِ الْيَهُودِ الْمَوْهُو مِ وَيُتَابِعُ حَمَلْتَهُ الشَّدِيدَةَ ضِةٌ السَّيَاسَةِ الإِسْتِعْمَارِيَّةِ الَّتِي تَنْشُرُ دَوما و ابدًا الاسْتِغْلَالَ وَالظُّلْمَ ثُمَّ يُقَارِنُ مَوْقِفَ هَؤُلَاءِ الْمُعْتِدِينَ مِنْ قَضِيَّةٍ فَلَسْطِينَ بِمَوْقِفِهِمْ مِنْ قضيَّةِ كَشْمِيْرٍ وَيَخْلُصُ إِلَى الْقَوْلِ اَنْ لَّا سَبِيلَ إِلَى الاسْتِقَلَالِ وَالْخَلاصِ