تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 391 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 391

MAA ہماری جائیدادوں کا کم سے کم ایک فیصدی حقہ اس وقت لے لے۔ایک فیصدی حفصہ سے بھی پاکستان کم سے کم ایک ارب روپیہ اس غرض کے لئے جمع کر سکتا ہے اور ایک ارب روپیہ سے اسلام کی موجودہ مشکلات کا بہت کچھ حل ہو سکتا ہے۔پاکستان کی قربانی کو دیکھ کر باقی اسلامی ممالک بھی قربانی کریں گے اور یقیناً پانچ چھ ارب روپیہ جمع ہو سکے گا جس سے فلسطین کے لئے باوجود یورپین ممالک کی مخالفت کے آلات جمع کئے جاسکتے ہیں۔ایک روپیہ کی جگہ پر دو۔دو روپیہ کی جگہ پر تین تین روپیہ کی جگہ پر چار اور بہار روپیہ کی جگہ پر پانچ خرچ کرنے سے کہیں نہ کہیں سے چیزیں مل جائیں گی۔یوروپین لوگوں کی دیانتداری کی قیمت ضرور ہے خواہ وہ قیمت گراں ہی کیوں نہ ہو انہیں خریدا ضرور جا سکتا ہے خواہ بڑھیا بولی پر نگر بولی دینے کے لئے جیب بھی بھری ہوئی ہونی چاہیئے۔پس یکی مسلمانوں کو توقیہ دلاتا ہوں کہ اس نازک، وقت کو سمجھیں اور یاد رکھیں کہ آج رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانی که الْكُفْرُ مِلَةٌ وَاحِدَةً لفظ بلفظ پورا ہو رہا ہے۔یہودی اور عیسائی اور دہریہیل کہ اسلام کی شوکت کو مٹانے کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں۔پہلے فرد آخر در ایورو میں اقوام مسلمانوں پر حملہ کرتی تھیں مگر آب مجموعی صورت میں ساری طاقتیں مل کر حملہ آور ہوئی ہیں آؤ ہم بھی سب مل کر ان کا مقابلہ کریں کیونکہ اس معاملہ میں ہم میں کوئی اختلاف نہیں۔دوسرے اختلافوں کو ان اُمور میں سامنے لانا جن میں کہ اختلاف نہیں نہایت ہی بیوقوفی اور جہالت کی بات ہے۔قرآن کریم تو یہود سے فرماتا ہے :۔قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَانَوا إلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الأَنعَبدُ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَدْبَابا من دُونِ الله ( آل عمران بچے ) اتنے اختلافات کے ہوتے ہوئے بھی قرآن کریم یہود کو دعوت اتحاد دیتا ہے۔کیا اس موقع پر جبکہ۔۔اسلام کی جڑوں پر تیر رکھ دیا گیا ہے۔جب مسلمانوں کے مقامات مقدم حقیقی طور پر خطرے میں ہیں وقت نہیں آیا کہ آج پاکستانی افغانی، ایرانی ، ملائی ، انڈونیشین، افریقین ، بریر اور ترکی یہ سب کے سب اکٹھے ہو جائیں اور عربوں کے ساتھ مل کہ اس حملہ کا مقابلہ کریں جو مسلمانوں کی قوت کو توڑنے اور اسلام کو ذلیل کرنے کے لئے دشمن نے کیا ہے ؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم اور حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی ایک دفعہ پھر