تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 380
عربی اور فارسی کے الفاظ زیادہ سے زیادہ داخل کرنے کی کوشش مسلمانوں کی طرف سے پہلے شروع ہوئی ہے اور ہندوؤں میں بعد میں رو عمل پیدا ہوا نیستیم لکھنوی تک کی مسلمانی اور ہند وانی اردو ایک نظر آتی ہے۔اسی طرح سرشار کی نثر مسلمانوں کی نثر سے مختلف نہیں۔اگر ہم نے اپنے پیار کر و مسلمانوں نے حلق رکھنا ہے جو ہندوستان میں لیتے ہیں تو ہمیں پاکستان میں اُردو کی رو کو اسی طبعی رنگ پر چلنے دینا چاہئیے جس رنگ پر آج سے سو پچاس سال پہلے وہ پھل رہی تھی۔دوسرے میں سمجھتا ہوں کہ اگر اُردو کا نفرنس دہلی اور اس کے نواحی علاقوں کے اُجڑے ہوئے لوگوں کے لئے یہ تحریک بھی جاری کرے کہ انہیں ایک خاص علاقے میں لیسا دیا جائے تا کہ اردو زبان کے ساتھ پرانی ہندوستانی اصلی تہذیب بھی اپنا علیحدہ جلوہ دکھاتی رہے تو اس سے اُردو کی بھی خدمت ہوگی اور ہماری ایک پرانی یادگار بھی تازہ رہ سکے گی۔تھل پر اجیکٹ میں اس کے لئے کافی گنجائش ہے۔تیرے میرے نزدیک اُردو کی یہ بہترین خدمت ہو گی کہ اگر ہم اس کے لئے پاکستان کی زبان بنائے جانے کا مطالبہ کریں۔پاکستان کی زبان بننے کے بعد صوبوں کی زبان وہ آپ ہی آپ بین بیا گی ہمیں ابھی صوبجات کے متعلق کوئی بحث نہیں چھیڑنی چاہئیے وہ خود اپنی ضرورتوں کے مطابق اپنے لئے سیکیمیں بنا لیں گے۔اور جب پاکستانی ذہنیت، قائم ہو جائے گی اور جب پاکستانی وطنیت ایک جسم اختیار کرلے گی تو صوبیات خود بدلے ہوئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیں گے۔اُرد یقینا پاکستان ہی کی نہیں ہندوستان کی زبان بھی بننے والی ہے مگر ہمیں جلدی نہیں کرنی چاہئیے اور اِس خالص تہذیبی اور علمی سوال کو سیاسی سوال نہیں بنا دینا چاہئیے یا اے جماعت احمدیہ کی طرف سے نصاب کمیٹی حکومت مغربی پنجاب نے مڈل تک کے نظام تعلیم کی اصلاح کے لئے ایک کمیٹی مقرر کی اور حکومت مغربی پنجاب کو مخلصانہ مشورہ اس معاملہ میں جماعت احمدیہ سے بھی مشورہ طلب کیا جس پر صدر انجین احمدیہ نے مندرجہ ذیل آٹھ مہروں پر مشتمل ایک تعلیمی کمیٹی بنائی۔له الفضل ۲۷- امان / مارچ ACI