تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 374 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 374

بنایا گیا ہے اور اسی کی مدد سے مسلمانوں کا خون بہایا گیا ہے۔کیا کوئی کہ سکتا ہے کہ اس قانون کی موجودگی میں سوائے چند وظیفہ خواروں کے کوئی مسلمان ہندوستان یونین میں شمولیت کا خواہش مند ہو گا۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ قانون ریاست کا ہے کیونکہ ہندوؤں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور مسلمانوں کے ایجی ٹیشن میں ان کا ساتھ نہیں دیا۔دوسرے یہی قانون آب عملاً ہندوستان میں برتا جا رہا ہے اور مسلمانوں سے ہتھیار چھینے جا رہے ہیں۔خود مسٹر گاندھی نے تقریر میں کہا کہ مسلمانوں کو چاقو تک حکومت کے سپرد کر دینے چاہئیں تا کہ اکثریت کے دل میں ان کے متعلق اطمینان پیدا ہو اور اس کا خوف دور ہو۔یہ مضحکہ خیز فقرہ اس شخص کا ہے جو عدل وانصاف کا مدعی ہے اور یہ بہادری کا سرٹیفیکیٹ ہے جو وہ ہندو قوم کو دے رہا ہے جو مسلمانوں سے تعداد میں اس وقت پنی گئی ہوچکی ہے۔ہ مسلمان گوشت خور ہے اور گائے بھی کھاتا ہے لیکن کشمیر میں گائے کی قربانی پر دمین سال قید کی سزا مقر ہے اور جب ۳۱ ۳۲ میں کشمیر میں ایجی ٹیشن ہوا اور مسلمانوں نے اس قانون کے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا اور حکومت ہند نے بھی اِس قانون کی منسوخی یا اس کے نرم کرنے کا مشورہ دیا تو مہاراجہ کشمیر نے ABDICATE ہو جانے کی دھمکی دی اور یہ قانون آب تک موجود ہے اور اب انڈین یونین کے صوبے بھی گائے کشی کے خلاف قانون بناتے جا رہے ہیں۔یہ امور اگر اچھی طرح بیان کئے جائیں تو یقینا اس سوال کو حل کرنے کا موجب ہو سکتے ہیں لیکن مجھے ڈرہے کہ جوناگڑھ ا ھو کی طرح اس سارے سوال کو خراب کر دے گا اور باؤنڈری کمشن کی طرح اس ساری کوشش کو بے نتیجہ بنا دے گا۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔یاد رکھیں کہ کشمیر گیا تو پاکستان گیا۔اس مسئلہ کو ہر حال محمد گی سے طے کرانا چاہئیے اور کشمیر کے چھوڑنے پر کسی طرح رضامندی ظاہر نہیں کرنی چاہئیے۔اللہ تعالیٰ آپ کو کامیاب کرے۔* AGITATION a والسلام خاکسور (دستخط) مرزا محمود احمد از لاہور ۱۱ جنوری ۹ د الله ۶۱۹۴۸ سے اصل خط دفتر خدمت درویشان ربوہ میں محفوظ ہے۔اس دفتر کے ریکارڈ سے ہے بھی منکشف ہوتا ہے کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب یہ کے ابتدائی ایام میں جبکہ مسئلہ کشمیر جنرل اسمبلی میں البقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر