تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 373 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 373

٣٧٠ ایک سوال بالکل فیصلہ کن ہے۔اگر ریاست کے مسلمان جو اسی فیصدی ہیں ہندوستان یونین سے ملنا چاہتے ہیں اور آزادی کی جد و جہد میں حصہ لینے والوں کو ظالم اور ڈاکو سمجھتے ہیں تو پھر چاہیئے تھا کہ آزاد کردہ علاقہ سے بھاگ کر وہ جموں کی طرف جاتے لیکن وہ لوگ بھاگ کو پاکستان آئے ہیں اور ایک لاکھ سے زائدہ آدمی پاکستان میں ہے اور دس بارہ لاکھ آدمی آزاد گورنٹ کے ماتحت نہیں رہا ہے اس کے بر خلاف ہندو بھاگ کر جھول گیا ہے جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ اکثریت حملہ آوروں کو ریڈرز نہیں بلکہ بریر یہ سمجھتی ہے۔اگر یہ درست نہیں تو یونین گورمنٹ بتائے کہ صوبہ جموں اور میر پور کا بھاگا ہوا کتنا مسلمان جموں میں پناہ گزین ہے۔اس کے مقابل پر پاکستان حکومت ثابت کرے گی کہ جموں اور اس کے علاقہ کے مسلمان بھاگ کر پاکستان میں پناہ گزین ہیں۔کیا کوئی بھاگ کر ڈاکوؤں کے پاس بھی جاتا ہے ؟ ۲۔جموں راجہ کا صدر مقام ہے اور ابھی تک راجہ کے قبضہ میں ہے۔یونین بتائے کہ جموں کے مسلمان اب کہاں ہیں ؟ اگر وہ پاکستان میں آچکے ہیں تو اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ریاست میں محفوظ نہیں سمجھتے تھے۔ہیموں کے شہر کی مسلمان آبادی ، بز یا ماری جا چکی ہے یا بھاگ کو پاکستان آ چکی ہے۔وہ کئی ریڈرز سے ڈر کر جموں سے نکلی ہے اور کیوں ہندوستان یونین میں نہیں گئی بلکہ پاکستان آگئی ہے ؟ اگر ان دو صاف اور واضح اصول پر ہی مجلس اقوام متحقیق کروائے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ ریاست میں ریڈرز نہیں بلکہ بریٹرز لڑ رہے ہیں اور ریاست کے مسلمان باشندے آزادی چاہتے ہیں ہندوستان سے الحاق نہیں چاہتے۔۳۔ریاست میں قانون ہے کہ جو ہندو مسلمان ہو جائے وہ جائداد سے محروم کر دیا جائے اور اسے لاوارث قرار دیا جائے۔کیا کوئی عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ مسلمان اس ظالمانہ اور یک طرفہ قانون کے بعد بھی ہندوستان یونین سے ملنا چاہے گا ؟ ریاست کا قانون ہے کہ ڈوگرے اور سکھ اور دوسرے ہند و قانون اسلحہ سے آزاد ہیں اور مسلمان اس قانون کے پابند ہیں اور پھر انہیں لائسنس دیا بھی نہیں جاتا۔یہ قانون چند سال سے * LIBERATORS + RAIDERS &