تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 371
۳۶۸ زمین میں جب کوئی بیچ ڈالا جاتا ہے تو اس سے وہی چیز اگتی ہے جس کا وہ بیچ ہوتا ہے۔جب زمین میں ہم گندم کا بیچ ڈالتے ہیں تو اس سے گندم پیدا ہوتی ہے اور جب انسان کا بیج ڈالتے ہیں تو اس سے انسان پیدا ہوتے ہیں۔پس یہاں کے لوگوں نے ایک احمدی کو شہید کر کے بلوچستان میں احمدیت کا بیج بو دیا ہے اب اس کا مٹانا ان کے اختیار میں نہیں رہا دُنیا کی کوئی طاقت اسے مٹا نہیں سکتی۔یہ پیچ پڑھے گا اور ترقی کرے گا اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ ایک تن آور درخت بن جائے گا۔۔۔خدا کی طاقتوں کا مقابلہ کرنا کس کے اختیار میں ہے خدا تعالیٰ کی تدبیریں بعد اگا نہ ہوتی ہیں وہ اپنے کاموں میں نرالا ہے، وہ اپنی حکمتوں میں عجیب ہے اس کے کنہہ کو پہنچنا انسانی عقل کے اختیار میں نہیں۔پس خدا تعالیٰ نے میرے اس سفر کو جس کی غرض یہاں رمضان کا گزارنا تھا اگر چہ یہاں کوئی زیادہ سردی نہیں اگر ہم مرکی چلے جاتے تو شاید اس سے بہتر رہتا، ایک دینی سفر بنا دیا اور اس کو ایک خاص اہمیت بخش دی۔میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت کے دن آب قریب ہیں میں خدا تعالیٰ کی انگلی کو اُٹھا ہوا دیکھتا ہوں، لیکن اس کے اشارے کو نمایاں ہوتا ہوا پاتا ہوں، لیکن خدا تعالیٰ کے منشاء کو اس کے فضل سے پڑھ رہا ہوں اور سُن رہا ہوں۔۔ہمیں سارے ملک ہی ملنے والے ہیں۔دُنیا ہمیں حقارت کی نظروں سے دیکھتی ہے مگر دنیا نے خدا تعالیٰ کے ماموروں اور ان کی جماعتوں کو کب عرات کی نگاہ سے دیکھا ہے وہ ہمیشہ ہی انہیں حقیر اور ذلیل سمجھتی ہے مگر وہ جسے حقیر سمجھ کر معماروی نے پھینک دیا تھا خدا کا منشاء یہ ہے کہ وہی کونے کا پتھر ہو اور اس عمارت کے لئے سہارے اور روشنی کا موجب ہو۔ہمیشہ یہی ہوتا آیا ہے اور اب بھی یہی ہوگایا ہے کوئٹہ سے مراجعت حضرت مصلح موعود کوئٹہ میں قریبا تین ماہ تک رونق افروز رہنے اور صوبہ بلوچستان کو اپنے فیض روحانی سے متمتع کرنے کے بعد عار تبوک استمبر کو صبح ساڑھے سات بجے بذریعہ کراچی میں واپس لاہور تشریف لے آئے ؟ ۱۹۴۸ له الفضل ۲۳ امضاء / اکتوبر ۲۷ مٹ ۶۱۹۴۸