تاریخ احمدیت (جلد 11)

by Other Authors

Page 370 of 494

تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 370

حضرت مصلح موعود کے قلبی تاثرات حضرت مصلح موعود نے سفر کوئٹہ کے آخری خطبہ جمعہ میں جو حضور نے ۳۔ماہ تبوک استمبر کو پارک ہاؤس اور پر جلال پیشگوئی میں ارشاد فرمایا، میجر محمود کے واقعہ شہادت پر دوبارہ اپنے قلبی تاثرات کا اظہار فرمایا اور اس کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ پیر جلال پیش گوئی فرمائی کہ خدا کی بادشاہت کے دن قریب ہیں اور وہ زمانہ جلد آ رہا ہے جبکہ دنیا کے سب ملکوں پر اسلام و احمدیت کا جھنڈا پوری شان و شوکت کے ساتھ بہرائے گا۔چنانچہ حضور نے فرمایا :- " میرے یہاں آنے پر مخالفت شروع ہو گئی۔ہمارے خلاف باتیں کی جانے لگیں۔جماعت احمدیہ پر اتہام لگانے شروع کر دیئے گئے اور مخالفین نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم قرآن کو منسوخ سمجھتے ہیں۔گویا جتنے منہ تھے اتنی باتیں شروع ہو گئیں۔وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ ایسی باتیں کر کے ہمارا ہی شکار ہو رہے ہیں۔در حقیقت مخالفت کے ذریعہ ہی لوگوں میں خدائی سلسلہ کی طرف تو یقہ پیدا ہوتی ہے اگر ہم یہاں آتے اور ہماری مخالفت نہ ہوتی تو کوئی ہماری طرف توجہ نہ کرتا بلکہ کسی کو ہمارے یہاں آنے کا پتہ بھی نہ لگ سکتا۔اگر ہمارے آدمی دوسروں کے پاس جاتے تو وہ کہہ دیتے۔اپنے منہ میاں میٹھو۔لوگ کہتے کوئی ہوگا جو یہاں آگیا ہے لیکن مولویوں نے ہمارے خلاف تقریریں شروع کر دیں اور لوگوں نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی بڑی چیز ہے معمولی چیز نہیں تبھی تو یہ لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔پتی کے آنے پر تو شور نہیں مچایا جاتا شیر کے آنے پر شور مچایا جاتا ہے، اس طرح یہ لوگ خود ہی ہمارے شکار ہونے لگے۔جب میں نے دیکھا کہ احمدیت کے لئے یہاں رستہ کھل گیا ہے تو میں نے درس دینا شروع کر دیا تا احمدیت اور اسلام کی عظمت ظاہر ہو میرے اندر ایک بے کلی سی تھی جس کی وجہ سے میں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ جو تفسیر میکں نے لکھواتی ہے اس کا درس یہاں دے دوں لکھنے والے لکھتے جائیں گے اور سننے والے اس سے فائدہ اُٹھا سکیں گے۔چونکہ لوگوں میں پہلے ہی رغبت پیدا ہو چکی تھی اس لئے لوگوں نے یہاں آنا شروع کر دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ مہینہ کے آخر تک پانچ چھے سو آدمیوں نے ہمارے خیالات سنے اور پھر اپنے خیالات کا اظہار کیا کسی نے ہماری تائید میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کسی نے ہماری مخالفت ہیں۔اور پھر خدا تعالیٰ نے ایک اور ذریعہ بنا دیا کہ لوگوں نے جوش میں آکر ایک احمدی نوجوان کو شہید کر دیا۔میں نے یہ مجھ لیا کہ اب ہم ہی کامیاب ہوں گے اور فتح ہماری ہی ہوگی۔