تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 360
۳۵۷ دنیا میں ایسی کوئی قوم نہیں گزری جس نے میٹھی میٹھی باتوں سے دنیا کو فتح کر لیا ہو۔تومیں ہمیشہ تلواری کے سایہ تلے پڑھتی اور ترقی کرتی ہیں۔انہیں دوسرے لوگوں کے اعتراضات برداشت کرنے ہی پڑتے ہیں۔پس اپنے آپ کو اس کا اہل بناؤ جب تک آپ خدا اور اس کے رسول کے دیوانے نہیں بن جاتے جب تک موجودہ فیشن اور علوم کی روکو اور رسم و رواج کو کچلنے کے لئے تیار نہیں ہو جاتے جب تک تم اسلامی تعلیم کو بھاری کرنے کے لئے تیار نہیں ہو جاتے اس وقت تک اسلامی احکام کو ایک غیرمسلم کبھی بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا ہی ہے مجالس علم و عرفان : حضور کی مجالس علم و عرفان کے انعقاد کا سلسلہ کو ئٹیں بھی برابر جاری رہا ان مجالس میں حضور نے علاوہ دوسرے اہم امور کے بعض فقہی مسائل (مثلاً ترتیب نماز وغیرہ) کے معاملہ میں بھی راہ نمائی فرمائی۔سے درس القرآن : جماعت کوئٹہ کو ان با برکت اور فیوض آسمانی سے معمور ایام میں حضرت مصلح موعود کے درس قرآن کی بیش بہا نعمت بھی میسر آئی۔چنانچہ اختیار افضل کے نامہ نگار کی ایک مطبوعہ رپورٹ بالا نقظہ ہو:۔حضور نے از راہ نوازش اور احباب کے فائدہ کے لئے قرآن کریم کا درس جاری رکھا ہے اور عید کے بعد بھی ہر روز عصر کے بعد ایک گھنٹہ درس ہوتا ہے۔حضور اقدس آجکل سورۃ کوثر کی تفسیر بیان فرما رہتے ہیں جس میں حضور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ ہر شعبہ میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت مسلم کو انتہائی درجہ کی ترقی عطا فرمائی یعنی کو شریط فرمایا۔درس کے دوران میں بھی مسلمانوں کے ہر طبقہ کے لوگ آتے ہیں اور حضور کے واریس کوشن کر ان غلط افواہوں کی تردید کرتے ہوئے چلے بھاتے ہیں جو مولویوں نے اُن کے کانوں میں ڈالی ہوتی ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے جو جماعت احمدیہ کوئٹہ پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے" سے ایک اور رپورٹ میں لکھا ہے :۔کوئٹہ پیش ہے۔آج دریں القرآن شروع ہونے سے قبل ایک عیسائی دوست نے بہت کی۔اسکی بند حضور نے سورۃ کوثر کا ۱۳۲۶ ه الفضل ۲۵ طور اگست من له الفضل ۲۷ احسان رمون هم صدا مش 11900 الفضل ۲۱ ظهور/ اگست ۱۳۲ من 114