تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 359
۳۵۶ کر بھی بتایا تھا کہ اس طرح ہم دس پندرہ سال میں کہیں کے کہیں پہنچ جائیں گے۔اگر ہر احمدی سالی میں ایک ایک احمدی بنائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہم اس وقت ہندوستان میں تین لاکھ ہیں ایک سال کے بعد ہم چھ لاکھ ہو جائیں گے ، دو سال کے بعد ۱۲ لاکھ ہو جائیں گے، تین سال کے بعد ہم ۲ لاکھ ہو جائیں گے ، چار سال کے بعد ۴۸ لاکھ ہو جائیں گے، ۵ سال کے بعد 94 لاکھ ہو بھائیں گے ، ہا سال کے بعد ایک کروڑہ بانو سے لاکھ ہو جائیں گے، سے سال کے بعد تین کروڑ چوراسی لاکھ ہو جائیں گے، ۸ سال کے بعد سات کروڑ اڑسٹھ لاکھ ہو جائیں گے ، 9 سال کے بعد ہاکروڑ ۳۶ لاکھ ہو جائیں گے ، ۱۰ سال کے بعد ۳۰ کروڑ ہے لاکھ ہو جائیں گے۔تو دیکھو اگر ہر ایک احمدی سال میں ایک ایک احمدی بنائے تو دس سال میں کتنا بڑا تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔د خطبه جمعه فرموده ٢٤ ظهور / اگست ۱۳۳۲۷۵ ) تربیتی اجلاسوں کو خطاب : حضرت امیر المومنین نے قیام کوئٹہ کے دوران جماعتی تنظیموں کے بعض تربیتی اجلاسوں میں بھی شرکت فرمائی اور نہایت قیمتی ہدایات سے نوازا۔مثلاً ، ظہور اگست کو حضور نے مجلس خدام الاحمدیہ کی ایک فروٹ پارٹی میں ایک نہایت بصیرت افروز تقریہ کی۔حضور نے اپنے اس پر اثر خطاب کے آخر میں فرمایا :- جب اسلام پھیر غالب آئے گا تو ہر انسان اس میں فخر محسوس کرے گا کہ وہ اسلام کی تعلیم پر معمل کرے لیکن جب تک اسلام غالب نہیں آتا ہمیں بڑی بڑی قربانیاں کر نی پڑیں گی، ہمیں اپنے نفسوں کو مارنا ہوگا جب تک ہم اپنے نفسوں کو مار کر موجودہ رسم و رواج کے خلاف اپنے آپ کو نہیں اُبھاریں گے ، جب تک دریا کی دھار کے خلاف تیرنے کی کوشش نہ کریں گے ، جب تک ہم سلامت کی تلوار کے نیچے اور ہنسی اور مذاق کی تلوار کے نیچے اپنے سردھرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار نہیں پاتے ، جب تک ہم سیاسی لوگوں کے اعتراضات کی تلوار کے نیچے اپنے سر دھرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار نہیں پاتے ، جب تک ہم مذہبی اور فی لوگوں کے اعتراضات کی تلوار کے نیچے سر دھرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار نہیں پاتے اس وقت تک ہمیں اس عظیم الشان مقصد کے پورا ہونے کی اُمید نہیں رکھنی چاہئیے۔له الفضل ۱۸ر تبوک استمبر هست : i