تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 358
۳۵۵ ہیں لیکن ہمیں حقیقی خوشی اسی وقت حاصل ہو گی جب دنیا میں ہر جگہ اسلام پھیل جائے گا یہ ساجد ذکر الہی کرنے والوں سے بھر جائیں گی اور جب محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی حکومت دنیا کے چنہ جیہ پر قائم ہو جائے گی۔پس ہماری جماعت کے ہر فرد کو یا د رکھنا چاہیے کہ اسلام اور مسلمانوں کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے ہمارے اندرونی زخم کبھی مندمل نہیں ہونے چاہئیں جبکہ اگر ہمارے زخم کبھی مندمل ہونے نکلیں تو چا ہیئے کہ ہم اپنی انگلیوں سے ان زخموں کو پھر ہرا کر لیں کیونکہ ہماری سب سے بڑی عید اسی وقت ہوگی جب اسلام دنیا کے کناروں تک پھیل جائے گا اور دنیا کے کونہ کونہ سے اللہ کر کی آوازیں اُٹھنا شروع ہو جائیں گی۔" (خطبہ عید الفطر فرموده ، ظور / اگست ، پارک ہاؤس کے ۶۱۹۴۸ ✓ (۵) یا درکھنا چاہیے کہ ہم مال کے ذریعہ دنیا کے مقابلہ میں جیت نہیں سکتے۔امریکہ کا ایک مالدار ہماری جماعت کی تمام جائدادیں خرید سکتا ہے اور پھر بھی اس کے خزانے میں روپیہ رہتا ہے۔امریکہ کے بعض مالداروں کے پاس ہماری ساری جماعت سے زیادہ روپیہ ہے۔بعض کے پاس تو بین امینی ارب روپیہ ہے اور اتنا روپیہ ہماری ساری جماعت کے پاس بھی نہیں۔ان میں ایسے لوگ سینکڑوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں جن کے پاس اربوں روپیہ ہے۔وہ لوگ ڈالروں ہیں اس کا ذکر کرتے ہیں کہ فلاں کے پاس ہزار ملین ہیں فلاں کے پاس دو ہزار فلاں کے پاس تین چار یا پانچ ہزار ملین ڈالر ہے اور یہ تین ارب روپیہ سے لے کو پندرہ ارب روپیہ تک ہو جاتا ہے ایسی قوم کا مقابلہ تم دولت سے کسی طرح کو سکتے ہو ؟ پھر ہمارے پاس دنیا وی طاقت بھی نہیں۔پیشیوں کو لے لو، تجارت کو لے لو، تعلیم کو لے لو ، اور کوئے صنعت و حرفت کو لے لو، کسی چیز میں بھی تو ہم غالب نہیں آسکتے ہیں اگر ہم دنیوی لحاظ سے دیکھیں تو سیدھی بات ہے کہ ہم دوسری قوموں پر غالب نہیں آسکتے۔پس اگر ہم غالب آسکتے ہیں تو محض اس طرح سے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کر کے اپنے آپ کو پاگل بنا دیں۔اگر ہم اپنے آپکو پاگل بنا دیں تو ایک سال میں ہم وہ کام کو لیں جس سے دنیا کی کایا ہی پلٹ جائے لیکن نے جماعت کو کوئی بار تو جہ دلائی ہے کہ ہر احمدی سال میں کم از کم ایک احمدی بنائے اور کس نے حساب لگا له الفضل ۱۵- امان / مارچ ه ص ۲۳ 51941