تاریخ احمدیت (جلد 11) — Page 357
۳۵۴ کہ دو کہ یا تو تم غلطی پر ہو یا میں غلطی پر ہوں۔اگر تم مجھے غلطی پر سمجھتے ہو تو دوستی کا حق یہ ہے کہ تم مجھے سمجھاوتا ہیں صحیح راستہ پر آ جاؤں۔اور اگر میں حق پر ہوں تو تمہیں بھی میرے ساتھ ہو جانا چاہیئے۔اور اگر صحیح طور پر کام کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ انہیں اس طرف توجہ نہ دلائی جا سکے۔خطبه فزوده ۱۶ و فار جولائی هر پارک ہاؤس کو ٹرم ہے ۶۱۹۴۸ (۳) " اس وقت خواہ ہم کتنے ہی کمزور ہوں ہم نے وقت آنے پر قادیان ضرور واپس لینا ہے۔یا تو حکومت محبت اور پیار سے ہمارا قادیان ہمارے حوالے کر دے گی جیسے ہم نے بار بارہ اس سے کہا ہے کہ اس علاقہ میں رہنے والے احمدی تمہاری حکومت کے مطیع اور فرمانبردار بن کر رہیں گے لیکن اگر اس نے ایسا نہ کیا تو ہماری جماعت پر فرض ہے خواہ وہ امریکہ میں بستی ہو یا انگلستان میں، جرمنی میں یا سوئٹزرلینڈ میں ، افریقہ میں یا انڈونیشیا ہیں ، پاکستان میں یا عرب میں (سوائے اُن لوگوں کے جو ہندوستان یونین کے باشندے ہیں کہ اُن پر ہندوستان یونین کی فرمانبرداری فرض ہے کہ وہ ہر جائز اور ممکن ذریعہ سے قادیان واپس لینے کی کوشش کرے۔اگر وہ صلح سے نہ ملے تو جب اُسے طاقت ملے طاقت کے زور سے اس مقام کو حاصل کرے۔جو شخص صلح کے ہا تھ کورڈ کرتا ہے وہ خود تلوار کا راستہ کھولتا ہے اور سب الزام اس پر ہے " ر خطبه فرموده ۳۰ و فار جولائی هر مسجد احمدیہ کو مٹر نے 1197A (۴) اس وقت دنیا میں ہزاروں قصبات اور شہر ایسے ہیں جن میں مسلمانوں کی بنائی ہوئی مسجدیں ویران پڑی ہیں اور ان میں خدا تعالیٰ کے آگے سجدہ کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔بنانے والوں، نے تو انہیں اس لئے بنایا تھا کہ ان میں خدا تعالیٰ کا ذکر کیا بجائے لیکن آپ وہ ویران اور غیر آباد پڑی ہیں۔اب جب تک یہ تمام مسجدیں پھر اسلام کی عظمت کا ایک زندہ نشان نہ بن جائیں ، جب تک قرآن کی حکومت پھر دنیا میں قائم نہ ہو جائے اس وقت تک اگر کوئی شخص صرف ظاہری عید پر ہی خوش ہو جاتا ہے اور نئے کپڑے پین کو سمجھ لیتا ہے کہ اُس نے عید منالی ہے تو وہ بے غیرت ہے راسی طرح وہ انسان جو ہمت ہار کر بیٹھ جاتا ہے وہ بھی نہایت ہی ذلیل اور بزدل انسان ہے۔بے شک ہمارے خدا نے ہمیں ظاہری طور پر خوشی منانے کا حکم دیا ہے اور اس لئے ہم خوشی مناتے ل ه الفضل به طور / اگست ۲۶ م : له الفضل ۲۵ تبوک استمبر ی من ۶۱۹۴۸